Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
169 - 558
دیدارِ الٰہی کے قرآنِ پاک سے تین دلائل:
(1)… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
’’وُجُوۡہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ﴿ۙ۲۲﴾ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ ﴿ۚ۲۳﴾‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے۔
(2)…اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
’’لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ‘‘ (2) ترجمۂکنزُالعِرفان: بھلائی والوں کے لئے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد۔
 	صحاحِ ستہ کی بہت حدیثیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ اس آیت میں زیادت سے دیدارِ الٰہی مراد ہے ۔
(3)… حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی’’رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرْ اِلَیۡکَ‘‘ اے میرے رب مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔ اس پر انہیں جواب ملا ’’لَنۡ تَرٰىنِیۡ‘‘ تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا ۔ (3) اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میرا دیدار ناممکن ہے کیونکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عارِف باللہ ہیں ، اگر دیدارِ الٰہی ممکن نہ ہوتا تو آپ ہر گز سوال نہ فرماتے، اس سے ثابت ہوا کہ دیدارِ الٰہی ممکن ہے۔
دیدارِ الٰہی کے احادیث سے 3دلائل:
	 احادیث بھی اس بارے میں بکثرت ہیں ، ان میں سے 3 احادیث درج ذیل ہیں :
(1)… مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’کیا تم چاہتے ہو کہ تم پر اور زیادہ عنایت کروں ؟ وہ عرض کریں گے: یارب! عَزَّوَجَلَّ کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کئے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا ؟ کیا تو نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی ؟ رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ پھرپردہ اٹھا دیا جائے گا تو دیدارِ الٰہی انہیں ہر نعمت سے زیادہ پیارا ہوگا۔ (4)
(2)…حضرت جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ہم سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…القیامہ:۲۳،۲۲۔
2 …یونس :۲۶۔
3…اعراف: ۱۴۳۔
4…مسلم، کتاب الایمان، باب اثبات رؤیۃ المؤمنین فی الآخرۃ ربہم سبحانہ وتعالی، ص۱۱۰، الحدیث: ۲۹۷(۱۸۱)۔