Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
151 - 558
’’ وَ جَعَلْنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ‘‘ (1)ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی۔
	تفسیرِ بغوی اور تفسیرِ خازن میں ہے ’’یُقَالُ اِنَّ اللہَ  لَمْ یَبْعَثْ نَبِیًّا بَعْدَ اِبْرَاہِیْمَ اِلَّا مِنْ نَسْلِہ‘‘ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد جو نبی مبعوث فرمایا وہ ان کی نسل سے تھا۔ (2)
	تفسیرِ قرطبی میں ہے ’’لَمْ یَبْعَثِ اللہُ نَبِیًّا مِنْ بَعْدِ اِبْرَاہِیْمَ اِلَّا مِنْ صُلْبِہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بعد تمام انبیاء ان کے صلب سے مبعوث فرمائے۔ (3)
	 تفسیرِ جلالین میں ہے ’’فَکُلُّ الْانبیاءِ بَعَدَ اِبْرَاہِیْمَ مِنْ ذُرِّیَّتِہ ‘‘ پس حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد تمام انبیاء ان کی اولاد میں سے تھے۔ (4)
	یاد رہے کہ سورۂ حدید کی آیت نمبر 26میں جو مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دونوں کی اولاد میں نبوت رکھی، اس کی تفسیر میں ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامچونکہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد میں سے ہیں ا س لئے شرفِ نبوت ان دونوں کی اولاد میں ہونا صادق آیا۔ (5)اس سے یہ بھی معلوم ہو اکہ قادیانی نبی ہر گز نہیں کیونکہ اگر قادیانی نبی ہوتا تو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں ہوتا۔
وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوۡنُسَ وَ لُوۡطًا ؕ وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾ وَ مِنْ اٰبَآئِہِمْ وَ ذُرِّیّٰتِہِمْ وَ اِخْوٰنِہِمْ ۚ وَ اجْتَبَیۡنٰہُمْ وَ ہَدَیۡنٰہُمْ اِلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ ﴿۸۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1 …عنکبوت:۲۷۔
2…بغوی، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳/۳۹۹-۴۰۰، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳/۴۴۹۔
3…قرطبی، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۷، ۷/۲۵۵، الجزء الثالث عشر۔
4…جلالین مع صاوی، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۷، ۴/۱۵۶۱۔
5…البحر المحیط، الحدید، تحت الآیۃ: ۲۶، ۸/۲۲۶۔