ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں ؟ اور تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کا شریک اس کو ٹھہرایا جس کی کوئی دلیل اللہ نے تم پرنہیں اتاری تو دونوں گروہوں میں امان کا زیادہ حقدار کون ہے؟ اگر تم جانتے ہو۔
{ وَکَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَکْتُمْ: اور میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں ؟} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید فرمایا کہ ’’میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں جو بے جان، جمادات اور بالکل عاجز و بے بس ہیں اور مجھے ڈرانے کی بجائے تو تمہیں ڈرنا چاہیے کیونکہ تم نے ان بتوں کواللہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک ٹھہرایا جن کے شریک ہونے کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اس بات کو سامنے رکھ کہ غور کرو کہ امن کا مستحق کون ہے وہ مومن جس کے پاس اپنے عقیدے کی حقانیت کے دلائل ہیں یا وہ مشرک امن کا مستحق ہے جس کے پاس اس کے عقیدے کی کوئی معقول و قابلِ قبول دلیل نہیں ہے۔
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمْ یَلْبِسُوۡۤا اِیۡمٰنَہُمۡ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمْنُ وَہُمْ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۸۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کو نہ ملایا تو انہی کے لیے امان ہے اوریہی ہدایت یافتہ ہیں۔
{ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا: وہ جو ایمان لائے۔}اس آیت میں ایمان سے مراد ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ماننا اور ظلم سے مراد شرک ہے۔ البتہ معتزلہ اس آیت میں ’’ظلم‘‘ سے مراد گناہ لیتے ہیں ، یہ صحیح احادیث کے خلاف ہے اس لئے اس کا اعتبار نہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں عرض کی ’’ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :’’اس سے یہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہی کہ ’’ اے میرے بیٹے !اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔ (1)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب احادیث الانبیائ، باب قول اللہ تعالی: ولقد آتینا لقمان الحکمۃ۔۔۔ الخ، ۲/۴۵۱، الحدیث: ۳۴۲۹۔