Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
135 - 558
’’ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ‘‘ (1) 
یاد آئے پر پاس نہ بیٹھ ظالموں کے۔ 
	بھولے سے ان میں سے کسی کے پاس بیٹھ گئے ہو تو یاد آنے پر فوراً کھڑے ہو جاؤ۔ (2)
وَ مَا عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ مِنْ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ لٰکِنۡ ذِکْرٰی لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ ﴿۶۹﴾
ترجمۂکنزالایمان:	اور پرہیز گاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں ہاں نصیحت دینا شاید وہ باز آئیں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان:	اور پرہیز گاروں پر گمراہوں کے حساب سے کچھ نہیں لیکن نصیحت کرنا ہے تاکہ وہ بچیں۔ 
{ وَ مَا عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ مِنْ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ:اور پرہیز گاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں۔}اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ مسلمانوں نے کہا تھا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اگر ہم ان گمراہوں کو چھوڑ دیں گے اور منع نہ کریں گے تو ہم گناہگار ہوجائیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (3)اور فرمایا گیا کہ پرہیز گاروں پر ان مذاق اڑانے والوں کے حساب سے کچھ بھی لازم نہیں بلکہ طعن و اِستہزاء کرنے والوں کے گناہ اُنہیں پر ہیں اور اُنہیں سے اس کا حساب ہوگا، پرہیزگاروں پرکوئی وبال نہیں۔ہاں پرہیزگاروں پر یہ لازم ہے کہ انہیں نصیحت کرتے رہیں تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آئیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ وعظ و نصیحت اور اظہارِ حق کے لئے ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے لیکن یہ علماء کا کام ہے عوام کا نہیں۔
وَ ذَرِ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمْ لَعِبًا وَّ لَہۡوًا وَّ غَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَ ذَکِّرْ بِہٖۤ اَنۡ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا کَسَبَتْ ٭ۖ لَیۡسَ لَہَا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…انعام: ۶۸۔
2…فتاویٰ رضویہ، ۱۵/۱۰۶،۱۰۷ ملخصاً۔
3…تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۹، ۲/۸۷۔