وَ عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیۡبِ لَا یَعْلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ؕ وَمَا تَسْقُطُ مِنۡ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُہَا وَلَا حَبَّۃٍ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی انہیں وہی جانتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے اور جو پتّا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔ترجمۂکنزُالعِرفان: اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ ان کو صرف وہی جانتا ہے اور جو کچھ خشکی اورتری میں ہے وہ سب جانتا ہے اور کوئی پتہ نہیں گرتا اور نہ ہی زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ ہے مگر وہ ان سب کو جانتا ہے۔ اور کوئی تر چیز نہیں اور نہ ہی خشک چیز مگر وہ ایک روشن کتاب میں ہے۔
{ وَ عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیۡبِ:اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔} تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے ’’یہ جو آیت میں فرمایا کہ ’’ غیب کی کنجیاں اللہہی کے پاس ہیں اُس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا ‘‘ اس خصوصیت کے یہ معنی ہیں کہ ابتداء ً بغیر بتائے ان کی حقیقت دوسرے پر نہیں کھلتی۔ (1) اور تفسیر صاوی میں ہے:یہ آیتِ کریمہ اس بات کے منافی نہیں کہ اللہتعالیٰ نے بعض انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکو بعض چیزوں کا علمِ غیب عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’عٰلِمُ الْغَیۡبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡل ٍ ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان:غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتاسوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ (2)
علمِ غیب سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ حضرت امام ا حمد رضاخان کی کتاب ’’اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّہْ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…عنایۃ القاضی، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۹، ۴/۷۳۔
2…تفسیر صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۹، ۲/۵۸۶۔