Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
111 - 558
’’ وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ وَ اَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی۔اور یہ کہ اس کی کو شش عنقر یب دیکھی جائے گی۔
	 (لیکن اس وقت ان کی یہ باتیں انہیں کوئی فائدہ نہ دیں گی اور نہ ہی انہیں واپس بھیجا جائے گا)۔(2)
قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمْ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللہِ وَلَاۤ اَعْلَمُ الْغَیۡبَ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمْ اِنِّیۡ مَلَکٌ ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ؕ قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الۡاَعْمٰی وَ الْبَصِیۡرُ ؕ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۵۰﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: تم فرمادو میں تم سے نہیں کہتا میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو اسی کا تا بع ہوں جو مجھے وحی آتی ہے تم فرماؤ کیا برابر ہو جائیں گے اندھے اور انکھیارے تو کیا تم غور نہیں کرتے۔ترجمۂکنزُالعِرفان: (اے حبیب!) تم فرمادو :میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں خود غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کا پیروکار ہوں جو میری طرف آتی ہے۔ تم فر ماؤ ،کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوسکتے ہیں ؟ تو کیا تم غور نہیں کرتے؟ 
{ قُلۡ: تم فرماؤ۔} کفار کا طریقہ تھاکہ وہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے طرح طرح کے سوال کیا کرتے تھے، کبھی کہتے کہ آپ رسول ہیں تو ہمیں بہت سی دولت اور مال دے دیجئے تاکہ ہم کبھی محتاج نہ ہوں اور ہمارے لئے پہاڑوں کو سونا کردیجئے ۔کبھی کہتے کہ گزشتہ اور آئندہ کی خبریں سنائیے اور ہمیں ہمارے مستقبل کی خبر دیجئے کہ کیا کیا پیش آئے گا؟ تاکہ ہم منافع حاصل کرلیں اور نقصانوں سے بچنے کیلئے پہلے سے انتظام کرلیں۔کبھی کہتے ہمیں قیامت کا وقت بتادیں کہ کب آئے گی؟ کبھی کہتے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کیسے رسول ہیں جو کھاتے پیتے بھی ہیں اور نکاح بھی کرتے 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…نجم:۳۹،۴۰۔
2…احیاء العلوم، کتاب ذم الغرور، بیان ذم الغرور وحقیقتہ وامثلتہ، ۳/۴۷۲-۴۷۳۔