ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ، بھلا بتاؤ کہ اگر تم پر اچانک یا کھلم کھلا اللہ کا عذاب آجائے تو ظالموں کے سواکون تباہ کیا جائے گا؟
{ قُلْ اَرَءَیۡتَکُمْ:تم فرماؤ، بھلا بتاؤ۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کاعذاب آنے کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں :
(1)… اچانک آنے والا عذاب۔ یہ وہ عذاب ہے جو پیشگی علامتوں کے بغیر آتا ہے اور ا س کے ذریعے کفار کو تباہ و برباد کر دیاجاتا ہے۔
(2)…کھلم کھلا آنے والا عذاب۔ یہ وہ عذاب ہے جس کے آنے سے پہلے اس کی علامتیں نمودار ہوتی ہیں تاکہ لوگ اگر اس عذاب سے بچنا چاہیں تو اپنے کفر اور سرکشی سے توبہ کر کے بچ سکتے ہیں اور اگر وہ توبہ نہ کریں تو انہیں عذاب میں مبتلا کر کے تباہ کر دیا جاتا ہے۔
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿۴۸﴾ وَالَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّہُمُ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوۡا یَفْسُقُوۡنَ ﴿۴۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ اندیشہ نہ کچھ غم۔اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں انہیں عذاب پہنچے گا بدلہ ان کی بے حکمی کا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ہم رسولوں کواسی حال میں بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے ہوتے ہیں تو جو ایمان لائیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان پرنہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو انہیں ان کی مسلسل نافرمانی کے سبب عذاب پہنچے گا۔
{ وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ:اور ہم رسولوں کواسی حال میں بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبری دینے والے ہوتے ہیں۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کو اس لئے نہیں بھیجتے کہ کفار ان سے اپنی من مرضی