’’ جب تم یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے گناہوں کے باوجود ان کی پسند کے مطابق عطا فرما رہاہے تو یہ ان کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِستِدراج اور ڈھیل ہے ،پھر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے یہ آیت تلاوت فرمائی
’’فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیۡہِمْ اَبْوٰبَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذْنٰہُمۡ بَغْتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبْلِسُوۡنَ ﴿۴۴﴾‘‘ترجمۂکنزُالعِرفان:پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیاجو انہیں کی گئی تھیں توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا پس اب وہ مایوس ہیں۔‘‘ (1)
حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’خدا کی قسم ! جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں وسعت عطا فرمائی اور اسے یہ خوف نہ ہو کہ کہیں اس میں اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی کوئی خفیہ تدبیر نہ ہو تو بے شک ا س کا عمل ناقص اور اس کی فکر کمزور ہے اور جس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وسعت روک لی اور اس نے یہ گمان نہ کیا کہ وسعت روکنے میں اس کے لئے کوئی بھلائی ہو گی تو بے شک ا س کا عمل ناقص اور ا س کی فکر کمزور ہے۔ (2)
اس سے ان نام نہاد دانشوروں کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے جو کافروں کی ترقی دیکھ کر اسلام سے ہی ناراض ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں کی معیشت کا رونا روتے ہوئے انہیں کفار کی اندھی تقلید کادرس دیتے ہیں اور اسلامی شرم و حیا اور تجارت کے شرعی قوانین کو لات مارنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ؕ وَ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو جڑ کاٹ دی گئی ظالموں کی اور سب خوبیوں سراہا اللہ رب سارے جہان کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اورتمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔
{ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا:تو ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی۔} ارشاد فرمایا کہ ایمان کی بجائے کفر اختیار کرنے اور اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی بجائے گناہوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور سب کے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث عقبۃ بن عامر الجہنی، ۶/۱۲۲، الحدیث: ۱۷۳۱۳۔
2…تفسیر قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳/۲۶۵، الجزء السادس۔