وَسَلَّمَ ستر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو ساتھ لے کر ’’ حَسْبُنَا اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ‘‘ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے اور بدر میں پہنچے ، وہاں آٹھ دن قیام کیا، مال تجارت ساتھ تھااسے فروخت کیا اورخوب نفع ہوا اور پھر سلامتی کے ساتھ مدینہ طیبہ واپس آئے اور جنگ نہیں ہوئی۔ چونکہ ابو سفیان اور اہلِ مکہ خوف زَدہ ہو کر مکہ مکرمہ کو واپس ہوگئے تھے اس واقعہ کے متعلق یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۷۲، ۱/۳۲۵-۳۲۶)
اس واقعہ کو بدر ِصغریٰ کا واقعہ کہتے ہیں۔ اِس واقعہ سے بھی صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عظمت واضح ہوتی ہے کہ جب انہیں کافروں کے بڑے بڑے لشکروں سے ڈرایا جارہا ہے تو بجائے ڈرنے اور بزدلی دکھانے کے ان کی ہمت اور جوانمردی اور بڑھ جاتی ہے ، ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان کی زبانوں پر ایک ہی وظیفہ جاری ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کافی ہے اور وہی سب سے اچھا کارساز ہے۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیۡطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَہٗ ۪ فَلَا تَخَافُوۡہُمْ وَخَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک وہ تو شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو ۔
{ اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیۡطٰنُ: بیشک وہ تو شیطان ہی ہے ۔ }یہاں پچھلے واقعے ہی کا بیان ہے کہ وہ تو شیطان ہے جو مسلمانوں کو مشرکین کی کثرت سے ڈراتا ہے جیسا کہ نعیم بن مسعود نے کیا کہ وہ اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ان منافقین اور مشرکین کا خوف نہ کرو جو شیطان کے دوست ہیں ، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ ایمان کا تقاضا ہی یہ ہے کہ بندے کو خداعَزَّوَجَلَّہی کا خوف ہو اور جب یہ خوف پیدا ہوجاتا ہے تو پھر کسی دوسرے کا خوف باقی نہیں رہتا۔ اس آیتِ مبارکہ سے پتہ چلا کہ مسلمانوں کو کافروں سے ڈرانا، مسلمانوں کے حوصلے پَست کرنا، ان کے سامنے کافروں