Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
79 - 476
{ وَلَئِنۡ قُتِلْتُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ: اور بیشک اگر تم اللہ کی راہ میں شہید کردیے جاؤ۔ }آیت میں فرمایا گیا کہ اگر تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں شہید کردیے جاؤ یا تمہیں طبعی موت ہی آئے لیکن تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہو تو یہ موت مغفرت اور رحمت کا سبب ہوگی اور ایسی موت دنیا کے دھن دولت سے بہتر ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں مرنا یہ ہے کہ جہاد کے راستے میں موت آئے اور اسی حکم میں یہ بھی داخل ہے کہ عبادت کرتے ہوئے یا ذکر کرتے ہوئے یا علمی خدمت کرتے ہوئے یا تبلیغِ دین کرتے ہوئے موت آجائے اس حال میں موت بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں موت ہے اور اس کا نتیجہ بھی ربّ کریم عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اور مغفرت ہے ۔ 
وَلَئِنۡ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاِالَی اللہِ تُحْشَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:	اور اگر تم مرو یا مارے جاؤ تو اللہ ہی کی طرف اٹھنا ہے ۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان:	اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ (بہرحال) تمہیں اللہ  کی بارگاہ میں جمع کیا جائے گا ۔ 
{ وَلَئِنۡ مُّتُّمْ: اور اگر تم مرجاؤ ۔ } صدرُالافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ یہاں نہایت پُر لطف تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یہاں مقاماتِ عبدیت کے تینوں مقاموں کا بیان فرمایاگیا پہلا مقام تو یہ ہے کہ بندہ بخوفِ دوزخ اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کی عبادت کرے تو اُس کو عذابِ نار سے امن دی جاتی ہے، اس کی طرف’’ لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللہِ ‘‘ میں اشارہ ہے۔ دُوسری قسم وہ بندے ہیں جو جنت کے شوق میں اللہ ( عَزَّوَجَلَّ) کی عبادت کرتے ہیں اس کی طرف ’’وَرَحْمَۃٌ‘‘ میں اشارہ ہے کیونکہ رحمت بھی جنت کا ایک نام ہے۔ تیسری قِسم وہ مخلص بندے ہیں جو عشقِ الٰہی اور ا س کی ذاتِ پاک کی محبت میں اِس کی عبادت کرتے ہیں اور اُن کا مقصود اُس کی ذات کے سوا اور کچھ نہیں ہے اِنہیں حق سبحانہٗ تعالیٰ اپنے دائرئہ کرامت میں اپنی تَجلّی سے نوازے گا اِس کی طرف ’’ لَاِالَی اللہِ تُحْشَرُوۡنَ ‘‘ میں اشارہ ہے ۔ 
(خزائن العرفان، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۵۸، ص۱۴۱)
فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنۡتَ لَہُمْ ۚ وَلَوْ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الْقَلْبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنْ حَوْلِکَ ۪ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَشَاوِرْہُمْ