تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ دس سے کم صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم رہ گئے۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۵۲، ۱/۳۱۱)
دنیا طلب کرنے والوں سے مرادوہ لوگ ہیں جنہوں نے وہ درہ چھوڑ دیا اورمالِ غنیمت حاصل کرنے میں مشغول ہوگئے اور آخرت کے طلبگاروں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم رہے حتّٰی کہ شہید ہوگئے ۔آیت کے آخر میں فرمایا کہ غزوۂ احد میں اِس مقام پر جن لوگوں نے خطا کی اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرمادیا۔ لہٰذا یاد رہے کہ جو اس طرح کے واقعات کو لے کر صحابۂ کرام رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی شان میں گستاخی کرے وہ بدبخت ہے کہ ان کی معافی کا اعلان ربُّ العالَمین عَزَّوَجَلَّخود فرماچکا۔
اِذْ تُصْعِدُوۡنَ وَلَا تَلْوٗنَ عَلٰۤی اَحَدٍ وَّ الرَّسُوۡلُ یَدْعُوۡکُمْ فِیۡۤ اُخْرٰىکُمْ فَاَثٰبَکُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّکَیۡلَا تَحْزَنُوۡا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلَا مَاۤ اَصٰبَکُمْؕ وَاللہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ﴿۱۵۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی کو نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے تو تمہیں غم کا بدلہ غم دیا اور معافی اس لئے سنائی کہ جو ہاتھ سے گیا اور جو افتاد پڑی اس کا رنج نہ کرو اور اللہ کوتمہارے کاموں کی خبر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جب تم منہ اٹھائے چلے جارہے تھے اور کسی کو پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھتے تھے اور تمہارے پیچھے رہ جانے والی دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے تو اللہ نے تمہیں غم کے بدلے غم دیا اور معافی اس لئے سنادی تاکہ جو تمہارے ہاتھ سے نکل گیانہ تو اس پر غم کرو اور نہ ہی اس تکلیف پر جو تمہیں پہنچی ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
{ فَاَثٰبَکُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ: تو اللہ نے تمہیں غم کے بدلے غم دیا۔} جنگ احد میں جب کفار پیچھے سے آپڑے تو مسلمان گھبرا کر بھاگ پڑے مگر سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اور کچھ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اپنی جگہ سے نہ ہٹے اور ثابت