کافر تمہارے مددگار نہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی تمہارا مدد گارہے اور وہی سب سے بہترین مددگار ہے، لہٰذا تم اس کی اطاعت کرو کیونکہ ہر ایک اپنے مولا کی اطاعت کرتا ہے توجب اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارا مولا ہے تو تم اسی کی اطاعت کرو۔
سَنُلْقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَکُوۡا بِاللہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًاۚ وَمَاۡوٰىہُمُ النَّارُؕ وَبِئْسَ مَثْوَی الظّٰلِمِیۡنَ﴿۱۵۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: عنقریب ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرایا جس کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اوروہ ظالموں کا کتنا برا ٹھکانہ ہے۔
{ سَنُلْقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ: عنقریب ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے۔} اس آیت میں غیب کی خبر ہے، جب ابو سفیان وغیرہ جنگ احد کے بعد واپس ہوئے تو راستہ میں خیال کیا کہ کیوں لوٹ آئے، سب مسلمانوں کو ختم کیوں نہ کر دیا حالانکہ یہ اچھا موقعہ تھا۔ جب واپس ہونے پر آمادہ ہوئے تو قدرتی طور پر ان تمام کے دلوں میں مسلمانوں کا ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مکہ چلے گئے اور یہ خبر پوری ہوئی۔ (بیضاوی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۵۱، ۲/۱۰۲)
وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللہُ وَعْدَہٗۤ اِذْ تَحُسُّوۡنَہُمۡ بِاِذْنِہٖۚ حَتّٰۤی اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنٰزَعْتُمْ فِی الۡاَمْرِ وَعَصَیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىکُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَؕ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الدُّنْیَا وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَۚ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْۚ وَلَقَدْ عَفَا عَنۡکُمْؕ وَاللہُ ذُوۡ فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ﴿۱۵۲﴾