Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
60 - 476
ترجمۂکنزالایمان:	اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: 	اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کھاؤ، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب آؤ گے ۔
{ وَلَا تَہِنُوۡا: اور سستی نہ کرو۔} غزوۂ احد میں نقصان اٹھانے کے بعد مسلمان بہت غمزدہ تھے اور اس کی وجہ سے بعض کے دل سستی کی طرف مائل تھے۔ ان کی اصلاح کے لئے فرمایا کہ جنگ اُحد میں جو تمہارے ساتھ پیش آیاہے اس کی وجہ سے غم نہ کرو اور سستی کا مظاہرہ نہ کرو ۔ جنگ بدر میں شکست کے باوجود ان کافروں نے ہمت نہ ہاری اور تم سے مقابلہ کرنے میں سُستی سے کام نہ لیا تو تمہیں بھی سُستی اور کم ہمتی نہیں کرنی چاہئے لہٰذا تم ہمت جواں رکھو۔ اگر تم سچے ایمان والے ہو اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والے ہو تو بالاخر تم ہی کامیاب ہوگے۔ چنانچہ مسلمانوں نے اس حکم پر عمل کر کے دکھایا اور خلفائے راشدین کے زمانہ مبارکہ میں مسلمانوں کو ہر طرف فتح و نصرت حاصل ہوئی۔ 
اِنۡ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗؕ وَتِلْکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِۚ وَلِیَعْلَمَ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَیَتَّخِذَ مِنۡکُمْ شُہَدَآءَؕ وَاللہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ﴿۱۴۰﴾ۙ
 
ترجمۂکنزالایمان: اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں اور اس لئے کہ اللہ پہچان کرا دے ایمان والوں کی اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں اور یہ دن ہیں جو ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں اوریہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ ایمان والوں کی پہچان کرادے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ عطافرمادے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔