Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
52 - 476
سے نظر آ رہے تھے، میں نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے۔	  (ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، ۳/۷۱، الحدیث: ۲۲۷۳)
	 اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہِ کبیرہ کرلینے سے آدمی ایمان سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ یہاں سود کی حرمت بیان کرتے ہوئے لوگوں سے ’’اے ایمان والو‘‘ کہہ کر خطاب کیا گیا ہے۔ (1)
وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡۤ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیۡنَ﴿۱۳۱﴾ۚ
ترجمۂکنزالایمان:اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ 
{ وَاتَّقُوا النَّارَ: اور اس آگ سے بچو۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: اس آیت میں ایمانداروں کو تہدید (دھمکی) ہے کہ سود وغیرہ جو چیزیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حرام فرمائی ہیں ان کو حلال نہ جانیں کیونکہ حرام قطعی کو حلال جاننا کفر ہے۔				 	       (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۳۱، ۱/۳۰۰)
وَاَطِیۡعُوا اللہَ وَالرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ﴿۱۳۲﴾ۚ
 ترجمۂکنزالایمان:اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اوراللہ اور رسول کی فرمانبردار ی کرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
{ وَاَطِیۡعُوا اللہَ وَالرَّسُوۡلَ:اوراللہ اور رسول کی فرمانبردار ی کرتے رہو ۔} فرمایا گیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرو اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی اطاعت اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی اطاعت کو کہتے ہیں ،رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا فرمانبردار نہیں ہوسکتا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…سود سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے رسالہ’’سوداوراس کاعلاج‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔