Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
471 - 476
 اہلِ کتاب اس وقت تک کسی دین و ملت پر نہیں جب تک وہ ایمان نہیں لاتے اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ یہ حکم صرف اہلِ کتاب کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر ملت والا ا س حکم میں داخل ہے اور کسی کو بھی تب تک کوئی فضیلت اور منقبت حاصل نہیں جب تک وہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ پراور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے نیک اعمال نہیں کرتا جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور نیک عمل میں سے حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانا بھی ہے کیونکہ جب تک کوئی تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر ایمان نہیں لاتا توا س کا ایمان مکمل نہیں ہو گا۔
(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۹، ۱/۵۱۳)
	اس آیت کی تفسیر کے بارے میں مزید معلومات کے لئے سورہ ٔبقرہ کی آیت نمبر 62کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ 
لَقَدْ اَخَذْنَا مِیۡثٰقَ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیۡہِمْ رُسُلًا ؕ کُلَّمَا جَآءَہُمْ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنْفُسُہُمْ ۙ فَرِیۡقًا کَذَّبُوۡا وَفَرِیۡقًا یَّقْتُلُوۡنَ ﴿٭۷۰﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے، جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول وہ بات لے کر آیا جو ان کے نفس کی خواہش نہ تھی ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے (تو) جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول وہ بات لے کر آیا جو ان کے نفس کو پسند نہ تھی تو انہوں نے (انبیاء کے) ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو شہید کرتے رہے۔ 
{ لَقَدْ اَخَذْنَا مِیۡثٰقَ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ:بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔} اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے توریت میں یہ عہد لیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں اور حکمِ الٰہی کے مطابق عمل کریں لیکن انہوں نے یہ کیا کہ جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ان کی خواہشات کے برخلاف حکم لے کر آتے توانبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کسی گروہ کو تو یہ جھٹلاتے اور کسی کو شہید کردیتے ۔ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب میں تو یہودو نصارٰی سب شریک ہیں مگر قتل کرنا یہ خاص یہودیوں کا کام ہے، اُنہوں نے بہت سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو شہید کیا جن میں سے حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی ہیں۔ یہ خیال رہے کہ کوئی نبی عَلَیْہِ السَّلَام جہاد میں کافروں کے ہاتھوں شہید نہیں ہوئے۔