کیلئے پہرہ دیا جاتا تھا، جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی توپہرہ ہٹا دیا گیا اور حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے پہرے داروں سے فرمایا کہ تم لوگ چلے جاؤ، اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کا فرمادیا ہے ۔
(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المائدۃ، ۵/۳۵، الحدیث: ۳۰۵۷)
حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی حفاظت کے لئے پہرہ دینے کا شرف جنہیں سب سے پہلے حاصل ہو اوہ حضرت سعد بن ابی وقا ص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے ،چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں ’’ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ مدینہ آتے وقت ایک رات بے خواب رہے ،پھر فرمایا کاش کوئی نیک شخص ہماری حفاظت کرتا۔ اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی تو ارشاد فرمایا ’’یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کی: میں سعد ہوں۔ ارشاد فرمایا ’’ تمہیں کیا چیز یہاں لائی ہے؟ عرض کی: میرے دل میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر خطرہ گزرا تو میں ان کی حفاظت کرنے آیا ۔ ان کے لیے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے دعا کی، پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سوگئے۔
(مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنہم، باب فی فضل سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، ص۱۳۱۴، الحدیث: ۴۰(۲۴۱۰))
قُلْ یٰۤاَہۡلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیۡءٍ حَتّٰی تُقِیۡمُوا التَّوْرٰىۃَ وَالۡاِنۡجِیۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمْ مِّنۡ رَّبِّکُمْ ؕ وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنْہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغْیٰنًا وَّکُفْرًا ۚ فَلَا تَاۡسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرمادو اے کتابیو تم کچھ بھی نہیں ہو جب تک نہ قائم کرو توریت اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اور بیشک اے محبوب وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کو شرارت اور کفر کی اور ترقی ہوگی تو تم کافروں کا کچھ غم نہ کھاؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرمادو اے کتابیو! جب تک تم تورات اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اسے قائم نہیں کرلیتے تم کسی شے پر نہیں ہو اور اے حبیب! یہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے یہ ان میں سے بہت سے لوگوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کرے گا تو تم کافرقوم پر کچھ غم نہ کھاؤ۔