کی نافرمانی کے ذریعے رزق طلب کرنے لگو کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس کی اطاعت کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ (شرح السنہ، کتاب الرقاق، باب التوکل علی اللہ عزوجل، ۷/۳۲۹، الحدیث: ۴۰۰۶)
{ مِنْہُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ: ان میں ایک گروہ اعتدال کی راہ والا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ سارے اہلِ کتاب یکساں نہیں ہیں بلکہ بعض اعتدال پسند ہیں اور وہ حد سے تجاوز نہیں کرتے ،یہ یہودیوں میں سے وہ لوگ ہیں جو تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وغیرہ جبکہ بقیہ اکثریت نافرمان ہے جو کفرپر جمے ہوئے ہیں۔
یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسٰلَتَہٗ ؕ وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے رسول پہنچا دو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا اور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے بیشک اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا اس کی تبلیغ فرما دیں اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اُس کا کوئی پیغام بھی نہ پہنچایا اور اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت فرمائے گا۔ بیشک اللہ کافروں کوہدایت نہیں دیتا۔
{ یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ:اے رسول۔} اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو رسول کے لقب سے خطاب فرمایا، یہ سرکارِ دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خصوصیت ہے ورنہ دیگر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کے اسماءِ مبارکہ سے خطاب فرمایا گیا ہے۔ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو فرمایا گیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے پیغامات لوگوں تک پہنچائیں اور کسی قسم کا کوئی اندیشہ نہ فرمائیں ، اللہ تعالیٰ ان کفار سے آپ کی حفاظت فرمائے گا جو آپ کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس خطرے کی وجہ سے دورانِ سفر رات کے وقت سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی حفاظت