ایک قول یہ ہے کہ جب بھی یہودی نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے خلاف جنگ کاا رادہ کرتے ہوئے اس کے اسباب تیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے منصوبے ناکام بنا دے گا۔ (ابوسعود، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ۲/۶۶)
وَلَوْ اَنَّ اَہۡلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوْا لَکَفَّرْنَا عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ وَلَاَدْخَلْنٰہُمْ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۶۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر کتاب والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ضرور ہم ان کے گناہ اتار دیتے اور ضرور انہیں چین کے باغوں میں لے جاتے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر اہلِ کتاب ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ضرور ہم ان کے گناہ مٹادیتے اور ضرور انہیں نعمتوں کے باغوں میں داخل کرتے۔
{ وَلَوْ اَنَّ اَہۡلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُوۡا:اور اگر اہلِ کتاب ایمان لاتے۔} اہلِ کتاب کے متعلق فرمایا کہ اگر یہ ایمان لے آتے تو ان کے گناہ بخش دئیے جاتے اور یہ جنت کے مستحق قرار پاتے۔ اِس آیت میں ایمان لانے کی اُخروی جزا کا بیان ہے اور اگلی آیت میں ایمان لانے کی دنیوی جزا کا بیان کیا گیا ہے۔
وَلَوْ اَنَّہُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمْ لَاَکَلُوۡا مِنۡ فَوْقِہِمْ وَمِنۡ تَحْتِ اَرْجُلِہِمۡ ؕ مِنْہُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ ؕ وَکَثِیۡرٌ مِّنْہُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوۡنَ ﴿٪۶۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر قائم رکھتے توریت اور انجیل اور جو کچھ ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اترا تو انہیں رزق