{ وَلَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنْہُمۡ: اورضرور ان میں سے بہت سے لوگوں (کی سرکشی اور کفر) میں اضافہ کرے گا۔} ارشاد فرمایا کہ جتنا قرآنِ پاک اُترتا جائے گا اتنا ہی یہودیوں کا حسد و عِناد بڑھتا جائے گا اور وہ اس کے ساتھ کفرو سرکشی میں بڑھتے رہیں گے جیسے مُقَوِّی غذا کمزور معدے والے کو بیمار کر دیتی ہے، اس میں غذا کا قصور نہیں بلکہ مریض کے معدے کا قصور ہے یا جیسے سورج کی روشنی چمگادڑ کو اندھا کر دیتی ہے تو اس میں سورج کا نہیں بلکہ چمگادڑ کی آنکھ کا قصور ہے۔
آیت ’’ وَلَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنْہُمۡ ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس سے دو چیزیں معلوم ہوئیں :
(1)… جس کے دل میں سرورِکائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی عظمت نہ ہو اس کے لئے قرآن و حدیث کفر کی زیادتی کا سبب ہیں جیسے آج کل بہت سے بے دینوں کو دیکھا جارہا ہے۔یاد رہے کہ دین کی عظمت ،دین لانے والے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی عظمت سے ہے۔
(2)… کفر میں زیادتی کمی ہوتی ہے یعنی کوئی کم شدید کافر ہوتا ہے اور کوئی زیادہ شدید۔ کمی زیادتی کسی مقدار کے اعتبار سے نہیں ہوتی، یہ ایسے ہی ہے جیسے ایمان میں کمی زیادتی ہوتی ہے یعنی کوئی زیادہ مضبوط ایمان والا اور کوئی کمزور ایمان والا ہوتا ہے۔
{ وَاَلْقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الْعَدٰوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: اور ہم نے قیامت تک ان میں دشمنی اور بغض ڈال دیا ۔} یعنی وہ ہمیشہ باہم مختلف رہیں گے اور اُن کے دِل کبھی نہ ملیں گے اگرچہ اوپر سے کبھی کبھار مسلمانوں کے خلاف متحد ہوجائیں۔
{ کُلَّمَاۤ اَوْقَدُوۡا نَارًا لِّلْحَرْبِ: جب کبھی یہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں۔} جب بھی یہودیوں نے فساد ،شر انگیزی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی ایسے شخص کو ان پر مُسَلَّط کر دیا جس نے انہیں ہلاکت اور بربادی سے دوچار کردیا، پہلے جب انہوں نے فتنہ و فساد شروع کیا اور تورات کے احکام کی مخالفت کی تو اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو ان کی طرف بھیج دیا جس نے ان کو تباہ کر کے رکھ دیا، کچھ عرصے بعد پھر جب انہوں نے سر اٹھایا تو طیطوس رومی نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جب انہوں شر انگیزی شروع کی تو فارسی مجوسیوں نے ان کا حشر نشر کردیا، پھر کچھ عرصے بعد جب فساد کا بازار گرم کیا تواللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان پر تَسلُّط اور غلبہ عطا فرمادیا۔
(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ۱/۵۱۰-۵۱۱)