دیا جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہاسے بجھا دیتا ہے اور زمین میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں ، اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہودیوں نے کہا: اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ ان کے ہاتھ باندھے جائیں اور ان پر اس کہنے کی وجہ سے لعنت ہے بلکہ اللہ کے ہاتھ کشادہ ہیں جیسے چاہتا ہے خرچ فرماتا ہے اور اے حبیب! یہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے یہ ان میں سے بہت سے لوگوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کرے گا اور ہم نے قیامت تک ان میں دشمنی اور بغض ڈال دیا ۔جب کبھی یہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تواللہ اسے بجھا دیتا ہے اور یہ زمین میں فساد پھیلانے کے لئے کوشش کرتے ہیں اور اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
{ وَ قَالَتِ الْیَہُوۡدُ: اور یہودیوں نے کہا۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ یہودی بہت خوش حال اور نہایت دولت مند تھے۔ جب انہوں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تکذیب و مخالفت کی تو اُن کی روزی کم ہوگئی۔ اس وقت فنحاص یہودی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بندھا ہے یعنی مَعَاذَاللہ وہ رزق دینے اور خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے ۔اُس کے اِس قول پر کسی یہودی نے منع نہ کیا بلکہ راضی رہے، اسی لئے یہ سب کا مَقولہ قرار دیا گیا اور یہ آیت اُن کے بارے میں نازل ہوئی
(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ۱/۵۰۹، مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۲۹۳)
اور فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ تو جواد و کریم ہے ، ہاں ان یہودیوں کے ہاتھ باندھے جائیں۔اِس ارشاد کا یہ اثر ہوا کہ یہودی دنیا میں سب سے زیادہ بخیل ہوگئے یا اِس جملے کا یہ معنیٰ ہے کہ اُن کی اس بے ہودہ گوئی اور گستاخی کی سزا میں اُن کے ہاتھ جہنم میں باندھے جائیں اور اس طرح انہیں آتش دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ آیت میں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کشادہ ہونے سے مراد بے حد کرم اور مہربانی ہے کہ دوستوں کو بھی نوازے اور دشمنوں کو بھی محروم نہ کرے ورنہ اللہ تعالیٰ جسمانی ہاتھ اور ہاتھ کے کھلنے سے پاک ہے۔ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے موافق جیسے اور جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اس میں کسی کواعتراض کرنے کی مجال نہیں۔ وہ کسی کو امیر اور کسی کو غریب کرتا ہے لیکن اس وجہ سے نہیں کہ اس کے خزانے میں کچھ کمی یا کرم میں کچھ نقصان ہے بلکہ بندوں کے حالات کا تقاضا ہی یہ ہے اور اس میں ہزارہا مصلحتیں ہیں۔