کے باوجود گناہ ختم نہ ہوں تو یہ اس مرض کی طرح ہے جو کسی شخص کو ہو اور دوائی کھانے کے باوجود وہ مرض ختم نہ ہو اور عالم کا گناہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا یہ قلبی مرض انتہائی شدید ہے۔ (تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۳، ۴/۳۹۳)
عالم پر واجب ہے کہ خود بھی سنبھلے اور دوسروں کو بھی سنبھالے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : قرآنِ پاک میں (علماء کے لئے) اس آیت سے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ والی کوئی آیت نہیں۔
(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۳، ۱/۵۰۹)
اور فرماتے ہیں : قرآنِ پاک میں یہ آیت (علماء کے بارے میں ) بہت سخت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنا چھوڑ دینے والے کو برائی کرنے والے کی وعید میں داخل فرمایا ہے۔ (مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۲۹۲-۲۹۳)
امام ضحاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میرے نزدیک اس آیت سے زیادہ خوف دلانے والی قرآنِ پاک میں کوئی آیت نہیں ، افسوس کہ ہم برائیوں سے نہیں روکتے ۔ (تفسیر طبری، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۳، ۴/۶۳۸)
وَ قَالَتِ الْیَہُوۡدُ یَدُ اللہِ مَغْلُوۡلَۃٌ ؕ غُلَّتْ اَیۡدِیۡہِمْ وَلُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا ۘ بَلْ یَدَاہُ مَبْسُوۡطَتَانِ ۙ یُنۡفِقُ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ وَلَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنْہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغْیٰنًا وَّکُفْرًا ؕ وَاَلْقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الْعَدٰوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ؕ کُلَّمَاۤ اَوْقَدُوۡا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَہَا اللہُ ۙ وَیَسْعَوْنَ فِی الۡاَرْضِ فَسَادًا ؕ وَاللہُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿۶۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یہودی بولے اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے انھیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ان پر اس کہنے سے لعنت ہے بلکہ اس کے ہاتھ کشادہ ہیں عطا فرماتا ہے جیسے چاہے اور اے محبوب یہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کو شرارت اور کفر میں ترقی ہوگی اور ان میں ہم نے قیامت تک آپس میں دشمنی اور بیر ڈال