اوراب تمہارا حال یہ ہے کہ
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں کچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں
لَوْلَا یَنْہٰىہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحْبَارُ عَنۡ قَوْلِہِمُ الۡاِثْمَ وَ اَکْلِہِمُ السُّحْتَ ؕ لَبِئْسَ مَا کَانُوۡا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۶۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: انہیں کیوں نہیں منع کرتے ان کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے، بیشک بہت ہی برے کام کررہے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کے درویش اور علماء انہیں گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے کیوں نہیں منع کرتے ۔ بیشک یہ بہت ہی برے کام کررہے ہیں۔
{ لَوْلَا یَنْہٰىہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ: انہیں کیوں نہ روکاان کے پادریوں نے؟} حضرت حسن بصری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : اس آیت میں ’’ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ ‘‘سے عیسائیوں کے علماء مراد ہیں اور’’ الۡاَحْبَارُ ‘‘سے یہودیوں کے علماء مراد ہیں ،اور ایک قول یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ یہودیوں کے بارے میں ہیں کیونکہ یہ آیات یہودیوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔
(تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۳، ۴/۳۹۳)
اورایک لفظ سے یہودیوں کے درویش مراد ہیں اور دوسرے لفظ سے یہودیوں کے علماء مراد ہیں۔
ٍعلماء پر برائی سے منع کرنا ضروری ہے:
یہاں یہودی درویشوں اور علماء کے متعلق فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی قوم کو گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے کیوں نہ روکا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عالمِ دین کی اس بات پر بھی پکڑ ہوگی کہ وہ گناہ ہوتے ہوئے دیکھیں اور قدرت کے باوجود منع نہ کریں کیونکہ ایسا عالم گناہ کرنے والے کی طرح ہے۔ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’گناہ روحانی مرض ہے اور ا س کا علاج اللہ تعالیٰ کی، اس کی صفات کی اور ا س کے احکام کی معرفت ہے اور یہ علم حاصل ہونے