Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
460 - 476
سور، بندر تم بنائے گئے ،بچھڑے کوتم نے پوجا ، اللہ تعالیٰ کی لعنت تم پر ہوئی، غضب ِ الٰہی کے مستحق تم ہوئے تو حقیقی بدنصیب اور بدتر تو تم ہواور تم ہی بدترین مقام یعنی جہنم میں جاؤ گے۔
وَ اِذَا جَآءُوۡکُمْ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَقَدۡ دَّخَلُوۡا بِالْکُفْرِ وَہُمْ قَدْ خَرَجُوۡا بِہٖ ؕ وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوۡا یَکْتُمُوۡنَ ﴿۶۱﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جب تمہارے پاس آئیں تو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور وہ آتے وقت بھی کافر تھے اور جاتے وقت بھی کافر اوراللہ خوب جانتا ہے جو چھپا رہے ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں حالانکہ وہ آتے وقت بھی کافر تھے اور جاتے وقت بھی کافرہی تھے اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپا رہے ہیں۔ 
{ وَ اِذَا جَآءُوۡکُمْ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا: اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔} یہ آیت یہودیوں کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے سرورِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے ایمان و اخلاص کا اظہار کیا اور کفر و گمراہی کو چھپائے رکھا ۔اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو اُن کے حال کی خبر دی۔ 			  (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۱، ۱/۵۰۸)
	منافق بداعتقادی کے ساتھ آتے تھے تو جیسے آتے ویسے ہی جاتے اور صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم عقیدت و محبت کے ساتھ آتے تو فیض کے دریا سمیٹ کر جاتے تھے۔اس سے معلوم ہو اکہ بداعتقادی کے ساتھ کسی کے پاس جانے والا کبھی اس سے فیض نہیں اٹھا سکتا۔ 
وَتَرٰی کَثِیۡرًا مِّنْہُمْ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡاِثْمِ وَ الْعُدْوٰنِ وَ اَکْلِہِمُ السُّحْتَ ؕ لَبِئْسَ مَا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۶۲﴾