کو مانتا ہوں۔ہم انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں فرق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں۔جب یہودیوں کو معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کو بھی مانتے ہیں تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کے منکر ہوگئے اور کہنے لگے جو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مانے ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۹،۲/۳۹)
اور فرمایا گیا کہ اے کتابیو! ہم تمہارے تمام پیغمبروں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور تمہاری تمام کتابوں کو حق مانتے ہیں تو کیا تمہیں یہی برا لگ رہا ہے ۔ اس چیز کی وجہ سے تو تمہیں ہمارے ساتھ ہونا چاہیے نہ کہ ہمارے خلاف۔
قُلْ ہَلْ اُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکَ مَثُوۡبَۃً عِنۡدَ اللہِ ؕ مَنۡ لَّعَنَہُ اللہُ وَغَضِبَ عَلَیۡہِ وَجَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیۡرَ وَعَبَدَ الطّٰغُوۡتَ ؕ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿۶۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ کیا میں بتادوں جو اللہ کے یہاں اس سے بدتر درجہ میں ہیں وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پرغضب فرمایا اور ان میں سے کردیے بندر اور سؤر اور شیطان کے پجاری ان کا ٹھکانا زیادہ برا ہے اور یہ سیدھی راہ سے زیادہ بہکے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے محبوب! تم فرماؤ: کیا میں تمہیں وہ لوگ بتاؤں جو اللہ کے ہاں اس سے بدتر درجہ کے ہیں ، یہ وہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو بندر اور سور بنادیا اور انہوں نے شیطان کی عبادت کی، یہ لوگ بدترین مقام والے اور سیدھے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
{ قُلْ: اے محبوب! تم فرماؤ۔} یہودیوں نے مسلمانوں سے کہا کہ تمہارے دین سے بدتر کوئی دین ہم نہیں جانتے۔ اس پر فرمایا گیا کہ مسلمانوں کو تو تم صرف اپنے بغض و کینہ اور دشمنی کی وجہ سے ہی برا کہتے ہو جبکہ حقیقت میں اصل بدتر تو تم لوگ ہو اور ذرا اپنے حالات دیکھ کر خود فیصلہ کر لو کہ تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہو یا مردود؟ پچھلے زمانہ میں صورتیں تمہاری مَسخ ہوئیں ،