Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
458 - 476
اور فرماتا ہے:
وَ ذَرِ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمْ لَعِبًا وَّ لَہۡوًا وَّ غَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا          ( انعام:۷۰)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنالیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا۔ 
	اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور ان آیات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حالت پر غور کرنے اور اپنی اس روش کو تبدیل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین۔
قُلْ یٰۤاَہۡلَ الْکِتٰبِ ہَلْ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللہِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبْلُ ۙ وَ اَنَّ اَکْثَرَکُمْ فٰسِقُوۡنَ ﴿۵۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ اے کتابیو تمہیں ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم ایمان لائے اللہپر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور اس پر جو پہلے اترا اور یہ کہ تم میں اکثر بے حکم ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ : اے اہلِ کتاب! تمہیں ہماری طرف سے یہی برا لگا ہے کہ ہم اللہ پر اور جو ہماری طرف نازل کیا گیا اس پر اور جو پہلے نازل کیا گیا اس پر ایمان لائے ہیں اور بیشک تمہارے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ 
{ قُلْ یٰۤاَہۡلَ الْکِتٰبِ:تم فرماؤ : اے اہلِ کتاب!۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے دریافت فرمایا کہ آپ انبیاء  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں سے کس کس کو مانتے ہیں ؟ اس سوال سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نہ مانیں تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئیں لیکن حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں اور جو اُس نے ہم پر نازل فرمایا اور جو حضرت ابراہیم ،حضرت اسمٰعیل ،حضرت اسحق اور حضرت یعقوب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی اولاد پر نازل فرمایا اور جو حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو دیا گیا یعنی توریت و انجیل اور جواور نبیوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے دیا گیا سب