(1)… نماز پنج گانہ کے لئے اذان ہونی چاہیے، اذان کا ثبوت اس آیت سے بھی ہے۔
(2)… دین کی کسی چیز کا مذاق اڑانا کفر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اذان کا مذاق اڑانے والوں کو کافر قرار دیاہے۔ ایسے ہی عالم ، مسجد، خانہ کعبہ، نماز، روزہ وغیرہا میں سے کسی کا مذاق اڑانا کفر ہے۔
(3) دینی چیزوں کا مذاق اڑانے والے احمق و بے عقل ہیں جو ایسے سَفِیہانہ اور جاہلانہ حرکات کرتے ہیں۔
دینی چیزوں کا مذاق اڑانے والوں کا رد:
اس آیت میں دینی چیزوں کا مذاق اڑانے والوں کا کتنا شدید رد ہے ۔ افسوس کہ جو کام یہودی اور منافق کیا کرتے تھے وہی کام مسلمان کہلانے والوں میں آتے جارہے ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، فرشتے، جنت، حوریں ، دوزخ، اس کے عذاب، قرآنی آیات، احادیث ِ نَبوی، دینی کتابوں ، دینی شَعائر، عمامہ، داڑھی، مسجد، مدرسے، دیندار آدمی، دینی لباس، دینی جملے، مقدس کلمات الغرض وہ کونسی مذہبی چیز ہے کہ جس کا اِس زمانے میں کھلے عام فلموں ، ڈراموں ، خصوصاً مزاحیہ ڈراموں ، عام بول چال، دوستوں کی مجلسوں ، دنیاوی تقریروں ، ہنسی مذاق کی نشستوں اور باہمی گپ شپ میں مذاق نہیں اُڑایا جاتا۔ افسوس کہ مسلمان کہلانے والے اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مسلمان کہلانے والوں کو داڑھی، عمامہ، مذہبی حُلیے سے نفرت ہے۔ مسلمان کہلانے والے کو اذان سن کر تکلیف ہوتی ہے۔ قرآن وحدیث کی باتیں اسے پرانی باتیں لگتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ دینی شَعائِر کا مذاق اڑانا کفر ہے اوردین کا مذاق اڑانے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْـَٔۨـا اتَّخَذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ؕ﴿۹﴾ (الجاثیہ :۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ہماری آیتوں میں سے کسی پر اطلاع پائے تواسے مذاق بناتا ہے ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔
اور فرماتا ہے:
وَلَئِنۡ سَاَلْتَہُمْ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّمَاکُنَّا نَخُوۡضُ وَنَلْعَبُ ؕ قُلْ اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ وَرَسُوۡلِہٖ کُنۡتُمْ تَسْتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶۵﴾ لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمٰنِکُمْ ؕ (التوبہ:۶۵،۶۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو ۔بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر۔