Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
456 - 476
{ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمْ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا:وہ لوگ جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اورکھیل بنالیا ہے۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ رفاعہ بن زید اور سُوَید بن حار ث نامی دو آدمی اظہار ِاسلام کے بعد منافق ہوگئے ۔بعض مسلمان اُن سے محبت رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا کہ زبان سے اسلام کا اظہار کرنا اور دل میں کفر چھپائے رکھنا دین کو ہنسی اور کھیل بنانا ہے اور ایسے لوگوں اور ان کے علاوہ مشرکوں کافروں کو دوست بنانے سے بھی منع کردیا گیا کیونکہ خدا عَزَّوَجَلَّکے دشمنوں سے دوستی کرنا ایمان دار کا کام نہیں۔اس پر مزید تفصیل اگلی آیت کے تحت موجود ہے۔
وَ اِذَا نَادَیۡتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوۡہَا ہُزُوًا وَّلَعِبًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوۡنَ ﴿۵۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور جب تم نماز کے لئے اذان دو تو اسے ہنسی کھیل بناتے ہیں یہ اس لئے کہ وہ نرے بے عقل لوگ ہیں۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تویہ اس کو ہنسی مذاق اورکھیل بنالیتے ہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ بالکل بے عقل لوگ ہیں۔ 
{ وَ اِذَا نَادَیۡتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ: اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو۔} اس آیت کے بارے میں کلبی کا قول ہے کہ جب سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا مُؤذن نماز کے لئے اذان کہتا اور مسلمان اٹھتے تو یہود ی ہنستے اور تمسخر کرتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مفسر سدی نے بیان کیا کہ مدینہ طیبہ میں جب مؤذن اذان میں اَشْہَدُاَنْ لآَّاِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ اور’’اَشْہَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہ ‘‘ کہتا تو ایک نصرانی یہ کہا کرتا کہ ’’جل جائے جھوٹا ‘‘ایک رات اس کا خادم آگ لایا وہ اور اس کے گھر کے لوگ سورہے تھے آگ سے ایک شرارہ اُڑا اور وہ نصرانی اور اس کے گھر کے لوگ اور تمام گھر جل گیا۔ 
(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۸، ۱/۵۰۷)
آیت’’ وَ اِذَا نَادَیۡتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
	 اس آیت سے 3 مسئلے معلوم ہوئے :