Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
455 - 476
 نبی ہونے پر اور مؤمنین کے دوست ہونے پر ہم راضی ہیں۔ (قرطبی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۵، ۳/۱۳۱، الجزء السادس)
	آیتِ مبارکہ میں بیان کردہ حکم تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے سب ایک دوسرے کے دوست اور محب ہیں۔
{ وَہُمْ رٰکِعُوۡنَ: اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔} عربی گرامر کے اعتبار سے آیتِ مبارکہ کے اس جملے کے چار معنی بیان کئے گئے ہیں :
(1)…پہلا معنیٰ یہ ہے کہ اللہ  تعالیٰ کی بارگاہ میں جھکا ہوا ہونا مومنوں کی ایک مزید صفت ہے۔ 
(جمل، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۵، ۲/۲۴۲)
(2)…دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ مومنین نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کے دونوں کام خشوع اور تواضع کے ساتھ کرتے ہیں۔ 
(ابو سعود، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۵، ۲/۵۹)
(3)…تیسرا معنی یہ ہے کہ وہ تواضع اور عاجزی کے ساتھ زکوٰۃ دیتے ہیں۔(جمل، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۵، ۲/۲۴۲)
(4)… چوتھا معنیٰ یہ ہے کہ وہ حالت ِ رکوع میں راہِ خدا میں دیتے ہیں۔ 
	پہلا معنیٰ سب سے قوی اور چوتھا معنیٰ سب سے کمزور ہے بلکہ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تفسیر کبیر میں اس کا بہت شدو مد سے رد کیا ہے اور اس کے بطلان پر بہت سے دلائل قائم کئے ہیں۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمْ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ ۚ وَاتَّقُوا اللہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾
 
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے وہ جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے اور کافر ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ان میں سے وہ لوگ جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اورکھیل بنالیا ہے انہیں اور کافر وں کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اگر ایمان رکھتے ہوتواللہ سے ڈرتے رہو۔