آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے خوف کھاتے ہوئے عدالت آنے سے انکار کردیا۔ لہٰذا قاضی صاحب نے خلیفہ مُعْتَضِد باللہ کا دعویٰ رد کرتے ہوئے اسے کچھ بھی نہ بھجوایا۔ (عیون الحکایات، الحکایۃ السادسۃ والثمانون بعد المائتین، ص۲۶۱-۲۶۲)
اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رٰکِعُوۡنَ ﴿۵۵﴾ وَمَنۡ یَّتَوَلَّ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْغٰلِبُوۡنَ ﴿۵۶﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: تمہارے دوست نہیں مگر اللہاور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بیشک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمہارے دوست صرف اللہاور اس کا رسول اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بیشک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے۔
{ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا: تمہارے دوست صرف اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے ہیں۔} گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا بیان ہوا جن کے ساتھ دلی دوستیاں لگانا حرام ہے، ان کا ذکر فرمانے کے بعد اب ان کا بیان فرمایا جن کے ساتھ مُوالات واجب ہے۔ اس آیتِ مبارکہ کے متعلق حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی، انہوں نے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی ،یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، ہماری قوم نے ہمیں چھوڑ دیا اور قسمیں کھالیں کہ وہ ہمارے پاس نہیں بیٹھا کریں گے اور دوری کی وجہ سے ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے اصحاب کی صحبت میں بھی نہیں بیٹھ سکتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اور ایمان والے تمہارے دوست ہیں تو حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا ’’ اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر، اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے