ایک کھوٹا سکہ دے جاتا، آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کو لے لیتے۔ ایک بار آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی غیر موجودگی میں شاگرد نے آتَش پرست سے کھوٹا سکہ نہ لیا۔ جب حضرت شیخ ابو عبداللہ خیاط رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ واپس تشریف لائے اور ان کو یہ معلوم ہوا تو شاگرد سے فرمایا: تو نے کھوٹا درہم کیوں نہیں لیا؟ کئی سال سے وہ مجھے کھوٹا سکہ ہی دیتا رہا ہے اور میں بھی چپ چاپ لے لیتا ہوں تاکہ یہ کسی دوسرے مسلمان کو نہ دے آئے۔
(احیاء العلوم، کتاب ریاضۃ النفس وتہذیب الاخلاق۔۔۔ الخ، بیان علامات حسن الخلق، ۳/۸۷-۸۸)
یہ مسلمانوں پر نرمی ہے۔ اور حدیثِ مبارک ہے، حضرت عبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہیں جو اپنے ہمراہیوں کے لیے بہتر ہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہیں جو اپنے پڑوسی کے لیے اچھے ہوں۔
(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی حق الجوار، ۳/۳۷۹، الحدیث: ۱۹۵۱)
اور حق گوئی میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے کے متعلق یہ حکایت ملاحظہ فرمائیں : قاضی ابو حَازِم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ انصاف کے معاملہ میں بہت سخت تھے۔ آپ ہمیشہ حق بات کہتے اوردرست فیصلے فرماتے۔ ایک مرتبہ خلیفۂ وقت ’’مُعْتَضِد باللہ‘‘ نے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طرف پیغام بھیجا: فلاں تاجر نے ہم سے مال خریدا ہے اور نقد رقم ادا نہیں کی ۔وہ میرے علاوہ دوسروں کا بھی مقروض ہے، مجھے خبر پہنچی ہے کہ دوسرے قرضخواہوں نے آپ کے پاس گواہ پیش کئے تو آپ نے اس تاجر کا مال ان میں تقسیم کر دیا ہے ۔ مجھے اس مال سے کچھ بھی نہیں ملا حالانکہ جس طر ح وہ دوسروں کا مقروض تھا اسی طرح میرا بھی تھا، لہٰذامیرا حصہ بھی دیا جائے ۔پیغام پاکر قاضی ابو حَازِم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے قاصد سے کہا: خلیفہ سے کہنا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر دراز فرمائے، وہ وقت یاد کرو جب آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ میں نے فیصلوں کی ذمہ داری کا بوجھ اپنی گردن سے اُتار کر تمہارے گلے میں ڈال دیا ہے ۔ اے خلیفہ! اب میں فیصلہ کرنے کا مختار ہوں اور میرے لئے جائز نہیں کہ گواہوں کے بغیر کسی مُدَّعی کے حق میں فیصلہ کروں۔ قاصد نے قاضی صاحب کاپیغام سنایا توخلیفہ نے کہا: جاؤ ! قاضی صاحب سے کہوکہ میرے پاس بہت معتبر اور معزز گواہ موجود ہیں۔ جب قاضی صاحب کو یہ پیغام ملا تو فرمایا: گواہ میرے سامنے آکر گواہی دیں ،میں ان سے پوچھ گچھ کروں گا، شہادت کے تقاضوں پر پورے اُتر ے تو ان کی گواہی قبول کرلوں گا ورنہ وہی فیصلہ قابلِ عمل رہے گا جو میں کر چکا ہوں۔ جب گواہوں کو قاضی صاحب کا یہ پیغام پہنچا تو انہوں نے