Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
452 - 476
(1)…وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں۔
(2)…وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتے ہیں۔ 
(3)…مسلمانوں کے ساتھ نرمی و شفقت کا سلوک کرنے والے ہیں۔
(4)…کافروں سے سختی سے پیش آنے والے ہیں۔
(5)…راہِ خدا کے مجاہد ہیں۔
(6)…حق بیان کرنے میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ حق گو اور حق گوئی میں بیباک ہیں۔
	 یہ صفات جن حضرات کی ہیں وہ کون ہیں ، اس میں کئی اقوال ہیں۔
(1)…حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم، امام حسن بصری اور حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کہا کہ یہ حضرات سیدنا ابوبکر صدیق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور ان کے وہ ساتھی ہیں جنہوں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے بعد مرتد ہونے والوں اور زکوٰۃ کے منکروں سے جہاد کیا۔
(2)… حضرت عیاض بن غنم اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے حضرت ابو موسیٰ اَشْعری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نسبت فرمایا کہ یہ اُن کی قوم ہے۔
(3)… ایک قول یہ ہے کہ یہ لوگ اہلِ یمن ہیں جن کی تعریف بخاری و مسلم کی حدیثوں میں آئی ہے۔
(4)… مفسر سدی کا قول ہے کہ یہ لوگ انصار ہیں جنہوں نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت کی۔ ان تمام اقوال میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ بیان کردہ سب حضرات کا ان صفات کے ساتھ متصف ہونا صحیح ہے۔ 
(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۴، ۱/۵۰۴-۵۰۵)
کامل مسلمان کا نمونہ:
	اس آیت میں مسلمانوں کے سامنے ایک کامل مسلمان کا نمونہ بھی پیش کردیا گیا کہ کامل مسلمان کیسا ہوتا ہے؟ ہمیں بھی اوپر بیان کردہ صفات کی روشنی میں اپنے اوپر غور کرلینا چاہیے۔ مسلمانوں کی خیر خواہی کے حوالے سے یہ واقعہ ایک عظیم مثال ہے:
	حضرت شیخ ابو عبداللہ خیاط رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس ایک آتَش پرست کپڑے سلواتا اور ہر بار اجرت میں