Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
451 - 476
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ یَّرْتَدَّ مِنۡکُمْ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَسَوْفَ یَاۡتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ ۫ یُجٰہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَلَا یَخَافُوۡنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ؕ ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ وٰسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۴﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا تو عنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت اللہ کی راہ میں لڑیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے یہ اللہ  کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ  وسعت والا علم والا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا تو عنقریب اللہ ایسی قوم لے آئے گا جن سے اللہ محبت فرماتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہیں ، اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے ۔ یہ (اچھی سیرت) اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرمادیتا ہے اوراللہ وسعت والا، علم والا ہے۔ 
{ مَنۡ یَّرْتَدَّ مِنۡکُمْ عَنۡ دِیۡنِہٖ:تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا۔} کفار کے ساتھ دوستی یاری اورمحبت و قلبی تعلق چونکہ بعض اوقات بے دینی اور اِرتِداد کا سبب بن جاتا ہے ، اس لئے کفار سے دوستی کی ممانعت کے بعد مُرتَدّین کا ذکر فرمایا اور مرتد ہونے سے پہلے لوگوں کے مرتد ہونے کی خبر دی چنانچہ یہ خبرسچ ثابت ہوئی اور بہت سے لوگ مرتد ہوئے۔ 
{فَسَوْفَ یَاۡتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ: تو عنقریب اللہ ایسی قوم لے آئے گا جن سے اللہ محبت فرماتا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو! تم میں سے اگر کچھ لوگ مرتد بھی ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ صفت بندے پھر بھی موجود ہوں گے اوروہ عظیم صفات کے حامل ہوں گے۔ اس آیت میں ان کی چند صفات بیان فرمائی گئیں :