کے کرم سے مکہ مکرمہ اور یہودیوں کے علاقے فتح ہوئے۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۲، ۱/۵۰۳)
اس آیت میں پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ فتح لے آئے اور دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی خاص حکم لے آئے جیسے سرزمینِ حجاز کو یہود یوں سے پاک کرنا اور وہاں اُن کا نام و نشان باقی نہ رکھنا یا منافقین کے راز کھول کر انہیں رسوا کرنا۔
(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۲، ۱/۵۰۳-۵۰۴، جلالین، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۲، ص۱۰۲، ملتقطاً)
تو جب اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرمائے گا اس وقت منافقین اپنی منافقت پر یا اس خیال پر نادم ہوجائیں گے کہ سرورِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کفار کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوں گے۔
وَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ اَقْسَمُوۡا بِاللہِ جَہۡدَ اَیۡمٰنِہِمْ ۙ اِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ ؕ حَبِطَتْ اَعْمٰلُہُمْ فَاَصْبَحُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۵۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ایمان والے کہتے ہیں کیا یہی ہیں جنہوں نے اللہ کی قسم کھائی تھی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں ان کا کیا دھرا سب اکارت گیا تو رہ گئے نقصان میں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ایمان والے کہیں گے : کیا یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھائی تھیں کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ تو ان کے تمام اعمال برباد ہوگئے پس یہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگئے۔
{ وَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا: اور ایمان والے کہیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ جب منافقین کا پردہ کھل جائے گا اور ان کی منافقت آشکار ہوجائے گی تو اس وقت مسلمان تعجب کرتے ہوئے کہیں گے کہ کیا یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بڑی پکی قسمیں کھائی تھیں کہ وہ دل سے مسلمانوں کے ساتھ ہیں حالانکہ ایسا نہیں تھا۔
{ حَبِطَتْ اَعْمٰلُہُمْ:تو ان کے تمام اعمال برباد ہوگئے۔} یعنی ان کے نفاق اور یہودیوں سے دوستی کی وجہ سے ان کے تمام نیک اعمال برباد ہو گئے اور انہوں نے دنیا میں اپنی ذلت و رسوائی کی وجہ سے نقصان اٹھایا اور آخرت میں اپنے اعمال کے ثواب سے محروم ہونے اور جہنم کا دائمی عذاب پانے کے سبب نقصان اٹھائیں گے۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۳، ۱/۵۰۴)