اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ۫ وَ اِنۡ تُصِبْکُمْ سَیِّـَٔۃٌ یَّفْرَحُوۡا بِہَاؕ وَ اِنۡ تَصْبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا یَضُرُّکُمْ کَیۡدُہُمْ شَیۡـًٔاؕ اِنَّ اللہَ بِمَا یَعْمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ﴿۱۲۰﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے اور تم کو برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کیے رہو تو ان کا داؤں تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا بیشک ان کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبرکرو اورتقویٰ اختیار کرو تو ان کا مکروفریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ بیشک اللہ ان کے تمام کاموں کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔
{ اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ: اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے۔} کفار کی عمومی حالت یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کو کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر مسلمانوں کو کوئی تکلیف پہنچے تو وہ خوش ہوتے ہیں لہٰذا مسلمانوں کو کافروں سے محبت و دوستی نہیں رکھنی چاہے۔ ان کے مقابلے میں مسلمان اگر صبر اور تقویٰ کو اپنا شعار بنالیں تو کافروں کا کوئی داؤ مسلمانوں پر نہ چل سکے گا۔
وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّیُٔ الْمُؤْمِنِیۡنَ مَقٰعِدَ لِلْقِتَالِؕ وَاللہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ﴿۱۲۱﴾ۙ ترجمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو اے محبوب جب تم صبح کو اپنے دولت خانہ سے برآمد ہوئے مسلمانوں کو لڑائی کے مورچوں پر قائم کرتے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کرو اے حبیب! جب صبح کے وقت تم اپنے دولت خانہ سے نکل کر مسلمانوں کو لڑائی کے مورچوں پرمقرر کررہے تھے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
{ وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ: اور یاد کرو اے حبیب! جب صبح کے وقت تم اپنے دولت خانہ سے نکلے۔} یہاں سے غزوۂ احد کا بیان ہورہا ہے اور اس کے بعد غزوۂ بدر کا تذکرہ ہے۔