بڑھاؤں گا، کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میر ی طرف سے ابتدا ہو حالانکہ میں تجھ سے قوی و توانا ہوں یہ صرف اس لئے کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا یعنی میرے قتل کرنے کا گناہ اور تیرا گناہ یعنی جو اس سے پہلے تو نے کیا کہ والد کی نافرمانی کی، حسد کیا اور خدائی فیصلہ کو نہ مانا یہ دونوں قسم کے گناہ تیرے اوپر ہی پڑجائیں توتو دوز خی ہوجائے۔
فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِیۡہِ فَقَتَلَہٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیۡنَ ﴿۳۰﴾ فَبَعَثَ اللہُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الۡاَرْضِ لِیُرِیَہٗ کَیۡفَ یُوٰرِیۡ سَوْءَۃَ اَخِیۡہِ ؕ قَالَ یٰوَیۡلَتٰۤی اَعَجَزْتُ اَنْ اَکُوۡنَ مِثْلَ ہٰذَا الْغُرَابِ فَاُوٰرِیَ سَوْءَۃَ اَخِیۡ ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیۡنَ ﴿ۚۛۙ۳۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو اس کے نفس نے اسے بھائی کے قتل کا چاؤ دلایا تو اسے قتل کردیا تو رہ گیا نقصان میں۔ تو اللہنے ایک کوا بھیجا زمین کریدتا کہ اسے دکھائے کیونکر اپنے بھائی کی لاش چھپائے بولا ہائے خرابی میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ میں اپنے بھائی کی لاش چھپاتا تو پچتاتا رہ گیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر راضی کرلیا تو اس نے اسے قتل کردیا پھر وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔ پھراللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کرید رہا تھا تا کہ وہ اسے دکھا دے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے ۔ (کوے کا واقعہ دیکھ کر قاتل نے) کہا: ہائے افسوس، میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپالیتا تو وہ پچھتانے والوں میں سے ہوگیا۔
{ فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِیۡہِِ: تو اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر راضی کرلیا۔} قابیل تمام گفتگو کے بعد بھی ہابیل کو قتل کرنے کے ارادے پر ڈٹا رہا اور اس کے نفس نے اسے اِس ارادے پر راضی کرلیا، چنانچہ قابیل نے ہابیل کوکسی طریقے سے قتل کردیا لیکن پھر حیران ہوا کہ اس لاش کو کیا کرے! کیونکہ اس وقت تک کوئی انسان مرا ہی نہ تھا ۔ مدت