اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا: آپ امیر المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے قسم لینے سے در گزر کیجئے۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فوراً حلف اٹھالیا اور قسم کھاتے ہوئے فرمایا: زید اس وقت تک منصبِ قضاء (یعنی جج بننے) کا اہل نہیں ہو سکتا جب تک کہ عمر(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) اور ایک عام شخص اس کے نزدیک (مقدمے کے معاملے میں ) برابر نہیں ہو جاتے۔ (ابن عساکر، ذکر من اسمہ زید، زید بن ثابت بن الضحاک۔۔۔ الخ، ۱۹/۳۱۹)
وَعَدَ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۹﴾ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَکَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیۡمِ ﴿۱۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: ایمان والے نیکو کاروں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔اور وہ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہی دوزخ والے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ نے ایمان والوں اور اچھے عمل کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایاوہی دوزخ والے ہیں۔
{ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ: اور انہوں نے اچھے عمل کئے۔} اچھے اعمال سے مراد ہر وہ عمل ہے جو رضائے الٰہی کا سبب بنے۔ اس میں فرائض و واجبات، سنتیں ، مستحبات، جانی ومالی عبادتیں ، حقوق اللہ، حقوق العباد وغیرہ سب داخل ہیں۔
نیک اعمال کی ترغیب:
ترغیب کیلئے ایک حدیثِ مبارک پیش کی جاتی ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ’’میں ایک سفر میں رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ہمراہ تھا، ایک روز چلتے چلتے میں آپ کے قریب ہو گیا اور عرض کی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جو مجھے جنت میں داخل کرے اور جہنم سے دور رکھے۔ حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ا رشاد فرمایا: تو نے مجھ سے ایک بہت بڑی بات کا سوال کیا البتہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ آسان فرما دے اس کے لئے آسان ہے، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو ، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیتُ اللہ شریف کا حج کرو۔ پھر ارشاد فرمایا:کیا میں تمہیں نیکی کے