Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
391 - 476
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ ۫ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعْدِلُوۡا ؕ اِعْدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ۫ وَاتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے اوراللہ سے ڈرو، بیشک اللہ کو تمہارے کامو ں کی خبر ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ اور تمہیں کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ تم انصاف نہ کرو (بلکہ) انصاف کرو، یہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے۔
{ کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ: انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ۔} آیتِ مبارکہ میں عدل و انصاف کا حکم فرمایا گیا ہے اور واضح فرمادیا کہ کسی قسم کی قرابت یا عداوت کا کوئی اثر تمہیں عدل سے نہ ہٹا سکے۔
عدل و انصاف کے دو اعلیٰ نمونے:
	یہاں عدل و انصاف کے دو اعلیٰ نمونے پیش خدمت ہیں جس سے اسلام کی تعلیمات کا نقشہ سامنے آتا ہے۔  
(1)…ملک غَسَّان کا بادشاہ جبلہ بن ایہم اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گیا، کچھ دنوں بعد امیرُ المومنین حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حج کے ارادے سے نکلے تو جبلہ بن ایہم بھی اس قافلے میں شریک ہو گیا۔ مکۂ مکرمہ پہنچنے کے بعد ایک دن دورانِ طواف کسی دیہاتی مسلمان کا پاؤں اس کی چادر پر پڑ گیا تو چادر کندھے سے اتر گئی۔ جبلہ بن ایہم نے اس سے پوچھا: تو نے میری چادر پر قدم کیوں رکھا؟ اس نے کہا: میں نے جان بوجھ کر قدم نہیں رکھا غلطی سے پڑ گیا تھا۔ یہ سن کر جبلہ نے ایک زور دار تھپڑ ان کے چپرے پر رسید کر دیا،