بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ اُحِلَّتْ لَکُمۡ بَہِیۡمَۃُ الۡاَنْعٰمِ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیۡکُمْ غَیۡرَ مُحِلِّی الصَّیۡدِ وَاَنۡتُمْ حُرُمٌ ؕ اِنَّ اللہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو اپنے قول پورے کرو تمہارے لئے حلال ہوئے بے زبان مویشی مگر وہ جو آگے سنایا جائے گا تم کو لیکن شکار حلال نہ سمجھو جب تم احرام میں ہو بیشک اللہ حکم فرماتا ہے جو چاہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! تمام عہد پورے کیا کرو۔ تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کردیے گئے سوائے ان کے جو (آگے) تمہارے سامنے بیان کئے جائیں گے لیکن احرام کی حالت میں شکار حلال نہ سمجھو۔ بیشک اللہجو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے۔
{ اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ: تمام عہد پورے کرو۔} عُقود کا معنیٰ عہد ہیں ، انہیں پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے مراد کون سے عہد ہیں اس بارے میں مفسرین کے چند اقوال ہیں :
(1)… امام ابن جریج رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ یہاں اہلِ کتاب کو خطاب فرمایا گیا ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ اے اہلِ کتاب کے مومنو! میں نے گزشتہ کتابوں میں سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرنے کے متعلق جو تم سے عہد لئے ہیں وہ پورے کرو۔
(2)… بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس آیت میں خطاب مؤمنین کو ہے، انہیں اپنے عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔