سورۃ المائدۃ
سورۂ مائدہ کا تعارف
مقامِ نزول:
سورہ ٔمائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے،البتہ یہ آیت ’’ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ ‘‘ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے خطبہ میں اس آیت کی تلاوت فرمائی۔
(خازن، تفسیر سورۃ المائدۃ، ۱/۴۵۸)
آیات اور حروف کی تعداد:
اس سورت میں 16 رکوع، 120 آیتیں ، 12464 حروف ہیں۔
’’مائدہ‘‘ نام رکھے جانے کی وجہ:
عربی میں دستر خوان کو ’’مائدہ ‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کی آیت نمبر 112 تا 115 میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے حواریوں نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے آسمان سے مائدہ یعنی کھانے کے ایک دستر خوان کے نزول کا مطالبہ کیا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اللہ تعالیٰ سے مائدہ کے نازل ہونے کی دعا کی، اس واقعے کی مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ مائدہ‘‘ رکھا گیا۔
سورۂ مائدہ کے فضائل:
(1) …اس سورت کی ایک آیتِ مبارکہ کے بارے میں حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا ’’اے امیر المؤمنین! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، آپ اپنی کتاب میں ایک آیت کی تلاوت کرتے ہیں ، اگر وہ آیت ہم یہودیوں کے گروہ پر نازل ہوئی ہوتی تو (جس دن یہ نازل ہوتی) ہم ا س دن کو عید بناتے۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’وہ کون سی آیت ہے؟ اس یہود ی نے عرض کی(وہ یہ آیت ہے)