Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
363 - 476
 اِنۡتَہُوۡا خَیۡرًا لَّکُمْ ؕ اِنَّمَا اللہُ اِلٰہٌ وّٰحِدٌ ؕ سُبْحٰنَہٗۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗ وَلَدٌ ۘ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ ؕ وَکَفٰی بِاللہِ وَکِیۡلًا ﴿۱۷۱﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اے کتاب والو اپنے دین میں زیادتی نہ کرو اور اللہ پر نہ کہو مگر سچ، مَسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا اللہ کا رسول ہی ہے اور اس کا ایک کلمہ کہ مریم کی طرف بھیجا اور اس کے یہاں کی ایک روح تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور تین نہ کہو باز رہو اپنے بھلے کواللہ  تو ایک ہی خدا ہے پاکی اُسے اس سے کہ اس کے کوئی بچہ ہو اسی کا مال ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور اللہ کافی کارساز ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے کتاب والو! اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ پر سچ کے سوا کوئی بات نہ کہو۔ بیشک مسیح ، مریم کا بیٹا عیسیٰ صرف اللہ کا رسول اور اس کا ایک کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا اور اس کی طرف سے ایک خاص روح ہے تواللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو (کہ معبود) تین ہیں۔ (اِس سے) باز رہو، (یہ) تمہارے لئے بہتر ہے۔ صرف اللہ ہی ایک معبود ہے ، وہ پاک ہے اس سے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ کافی کارساز ہے۔ 
  { یٰۤاَہْلَ الْکِتٰبِ: اے اہلِ کتاب۔} اس سے پہلے والی آیات میں یہودیوں کی دین میں زیادتیوں اور ان کے جرائم کو بیان فرمایا، اب عیسائیوں کے دین میں غُلُوّ اور حد سے بڑھنے کے بارے میں بیان فرمایا جا رہا ہے۔ 
عیسائیوں کے فرقے اور ان کے عقائد:
	عیسائی چار بڑے فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے (1) یعقوبیہ۔ (2) ملکانیہ۔ (3) نسطوریہ۔ (4) مرقوسیہ۔ ان میں سے ہر ایک حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں جداگانہ کفریہ عقیدہ رکھتا تھا۔ یعقوبیہ اور ملکانیہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کہتے تھے۔ نسطوریہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کا بیٹا کہتے تھے جبکہ مرقوسیہ فرقے کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ تین میں سے تیسرے ہیں ، اور اس جملے کا کیا مطلب ہے اس میں بھی ان میں اختلاف تھا ، بعض تین