اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ قَدْ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بـَعِیۡدًا ﴿۱۶۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا بیشک وہ دور کی گمراہی میں پڑے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا بیشک وہ دور کی گمراہی میں جا پڑے۔
{ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا: بیشک جنہوں نے کفر کیا۔} یہاں یہودیوں کی حالت کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت کا انکار کیا اورحضور تاجدارِ انبیاءصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نعت وصفت چھپا کر اور لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈال کر لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ سے روکا، بے شک وہ ان حرکتوں کی وجہ سے دور کی گمراہی میں جا پڑے کیونکہ ان میں گمراہ ہونا اور گمراہ کرنا دونوں چیزیں جمع ہو گئیں۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا لَمْ یَکُنِ اللہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلَا لِیَہۡدِیَہُمْ طَرِیۡقًا ﴿۱۶۸﴾ۙ اِلَّا طَرِیۡقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیۡرًا ﴿۱۶۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک جنہوں نے کفر کیا اور حد سے بڑھے اللہ ہرگز انہیں نہ بخشے گا نہ انہیں کوئی راہ دکھائے ۔ مگر جہنم کا راستہ کہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، اللہ ہرگز انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں کسی راستے کی ہدایت فرمائے گا ۔مگر جہنم کے راستے (کی ) جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
{ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا: بیشک جنہوں نے کفر کیا۔} یہاں بھی یہودیوں کا بیان ہے کہ انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کفر اور کتابِ الٰہی یعنی تورات میں موجود سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے اوصاف بدل کر اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت کا انکار کرکے ظلم کیا تو ایسے لوگ جب تک اپنے کفر پر قائم رہیں اور کفر پر مریں ان کی بخشش کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ انہیں کسی صحیح راہ کی ہدایت ملے گی البتہ جہنم کا راستہ ان کیلئے ضرور کھلا ہواہے اور وہ بالکل واضح ہوگا۔