{ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا: جو دنیا کا انعام چاہے۔}اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جس کو اپنے عمل سے دنیا مقصود ہوتو وہ دنیا ہی پاسکتا ہے لیکن وہ ثواب ِآخرت سے محروم رہتا ہے اور جس نے عمل رضائے الٰہی اور ثواب آخرت کے لئے کیا ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا و آخرت دونوں میں ثواب دینے والا ہے تو جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ سے فقط دنیا کا طالب ہو وہ نادان، خسیس اور کم ہمت ہے۔ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس دنیا و آخرت سب کچھ ہے تو اس سے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگو، مانگنے والے میں ہمت چاہیے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نہ تو دنیا کو اپنا اصل مقصود بنایا جائے کہ آخرت کو فراموش کر دے اور نہ بالکل ترکِ دنیا ہی کر دینی چاہیے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآءَ لِلہِ وَلَوْ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمْ اَوِالْوٰلِدَیۡنِ وَالۡاَقْرَبِیۡنَ ۚ اِنۡ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیۡرًا فَاللہُ اَوْلٰی بِہِمَا ۟ فَلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰۤی اَنۡ تَعْدِلُوۡا ۚ وَ اِنۡ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوۡا فَاِنَّ اللہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا ﴿۱۳۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:اے ایمان والو انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ کے لیے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا جس پر گواہی دو وہ غنی ہو یا فقیر ہو بہرحال اللہ کو اس کا سب سے زیادہ اختیار ہے تو خواہش کے پیچھے نہ جاؤ کہ حق سے الگ پڑواور اگر تم ہیر پھیر کرو یا منہ پھیرو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ کے لئے گواہی دیتے ہوئے انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ چاہے تمہارے اپنے یا والدین یا رشتے داروں کے خلاف ہی (گواہی) ہو۔ جس پر گواہی دو وہ غنی ہو یا فقیر بہرحال اللہ ان کے زیادہ قریب ہے تو (نفس کی) خواہش کے پیچھے نہ چلوکہ عدل نہ کرو۔ اگر تم ہیر پھیر کرو یا منہ پھیرو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
{ کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالْقِسْطِ: انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ۔} اس آیتِ مبارکہ میں عدل و انصاف کے تقاضے پورا کرنے کا