غزوۂ اَحزاب کے موقع پر خندق کھودتے ہوئے ایک ایسی چٹان ظاہر ہوئی جو کسی سے نہ ٹوٹ سکی، سرکارِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے وار سے وہ چٹان پارہ پارہ ہو گئی۔
(نسائی، کتاب الجہاد، غزوۃ الترک والحبشۃ، ص۵۱۷، الحدیث: ۳۱۷۳)
ایک رات اہلِ مدینہ ایک خوفناک آواز سن کر دہشت زدہ ہو گئے تو اس آواز کی سمت سب سے پہلے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ تشریف لے گئے۔
(بخاری، کتاب الادب، باب حسن الخلق والسخائ۔۔۔ الخ، ۴/۱۰۸، الحدیث: ۶۰۳۳)
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
تم ہو حفیظ و مُغیث کیا ہے وہ دشمن خبیث تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروڑوں درود
مَنۡ یَّشْفَعْ شَفٰعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ نَصِیۡبٌ مِّنْہَاۚ وَمَنۡ یَّشْفَعْ شَفٰعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْہَاؕ وَکَانَ اللہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقِیۡتًا﴿۸۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: جو اچھی سفارش کرے اس کے لیے اس میں سے حصہ ہے اور جو بری سفارش کرے اس کے لیے اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادرہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو اچھی سفارش کرے اس کے لئے اس کا اجر ہے اور جو بری سفارش کرے اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔
{ مَنۡ یَّشْفَعْ شَفٰعَۃً حَسَنَۃً:جو اچھی سفارش کرے ۔} اچھی سفارش وہ ہے جس میں کسی کو جائز نفع پہنچایا جائے یا تکلیف سے بچایا جائے، اس پر ثواب ہے جیسے کوئی نوکری کا واقعی مستحق ہے اور کسی دوسرے کی حق تَلفی نہیں ہورہی تو سفارش کرنا جائز ہے یا کوئی مظلوم ہے اور پولیس سے انصاف دلوانے میں مدد کیلئے سفارش کی جائے۔ بری سفارش وہ ہے جس میں غلط سفارش کی جائے، ظالم کو غلط طریقے سے بچایا جائے یا کسی کی حق تلفی کی جائے جیسے کسی غیر مستحق کو نوکری دلانے کیلئے سفارش کی جائے یا کسی کو شراب یا سینما کے لائسنس دلوانے کیلئے سفارش کی جائے، یہ حرام ہے۔