Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
261 - 476
 کرلیں گے اور یوں بات کا بتنگڑ اور رائی کا پہاڑ نہیں بنے گا۔ حضرت حفص بن عاصم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔ 			       (مسلم، باب النہی عن الحدیث بکلّ ما سمع، ص۸، الحدیث: ۵(۵))
ایک اہم مسئلہ:
	 مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ قیاس جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک علم تو وہ ہے جو قرآن و حدیث سے صراحت سے حاصل ہوتا ہے اور ایک علم وہ ہے جوقرآن و حدیث سے اِستِنباط و قیاس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔یہ بھی معلوم ہواکہ امور دینیہ میں ہر شخص کو دخل دینا جائز نہیں جو اِس کا اہل ہووہی اِس میں غور کرے۔ 
فَقٰتِلْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِۚ لَا تُکَلَّفُ اِلَّا نَفْسَکَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِیۡنَۚ عَسَی اللہُ اَنۡ یَّکُفَّ بَاۡسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡاؕ وَاللہُ اَشَدُّ بَاۡسًا وَّاَشَدُّ تَنۡکِیۡلًا﴿۸۴﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: تو اے محبوب اللہکی راہ میں لڑو تم تکلیف نہ دیئے جاؤ گے مگر اپنے دم کی اور مسلمانوں کو آمادہ کرو قریب ہے کہ اللہ  کافروں کی سختی روک دے اوراللہ کی آنچ سب سے سخت تر ہے اور اس کا عذاب سب سے کرّا۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اے حبیب! اللہکی راہ میں جہاد کریں۔ آپ کو آپ کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جائے گی اور مسلمانوں کو(جہاد کی) ترغیب دیتے رہو ۔ عنقریب اللہ کافروں کی طاقت روک دے گااور اللہ کی طاقت سب سے زیادہ مضبوط ہے اور اس کا عذاب سب سے زیادہ شدید ہے۔
{ فَقٰتِلْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ: تو اے حبیب! اللہکی راہ میں جہاد کریں۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ بدر صغریٰ (چھوٹا غزوہ بدر، اُس ) کی جنگ جو ابوسفیان سے طے تھی جب اس کا وقت آپہنچا تو سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وہاں جانے کے لئے لوگوں کو دعوت دی، بعض لوگوں پر یہ گراں ہوا تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو حکم دیا کہ آپ جہاد نہ چھوڑیں اگرچہ تنہا ہوں اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا ناصرو مددگار ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ