Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
254 - 476
یہ سوال حکمت دریافت کرنے کے لئے تھا، اعتراض کرنے کیلئے نہیں۔اسی لئے اُن کو اس سوال پر توبیخ وزجرنہ فرمایا گیا بلکہ تسلی بخش جواب عطا کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، تم ان سے فرما دو کہ دنیا کا ساز و سامان تھوڑا ساہے، فنا ہونے والا ہے جبکہ پرہیز گاروں کے لئے آخرت تیار کی گئی ہے اور وہی ان کیلئے بہتر ہے ۔ لہٰذا جہاد میں خوشی سے شرکت کرو۔ 
اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدْرِکۡکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْکُنۡتُمْ فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ وَ اِنۡ تُصِبْہُمْ حَسَنَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنْ عِنۡدِ اللہِ ۚ وَ اِنۡ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنْ عِنۡدِکَ ؕ قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنۡدِ اللہِ ؕ فَمَالِ ہٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَکَادُوۡنَ یَفْقَہُوۡنَ حَدِیۡثًا ﴿۷۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو اور اُنہیں کوئی بھلائی پہنچے تو کہیں یہ اللہ  کی طرف سے ہے اور انہیں کوئی برائی پہنچے تو کہیں یہ حضور کی طرف سے آئی تم فرما دو سب اللہ کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں ضرور پکڑ لے گی اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہو اور ان (منافقوں ) کو کوئی بھلائی پہنچے تو کہتے ہیں یہ اللہ  کی طرف سے ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے تو کہتے ہیں : (اے محمد!) یہ آپ کی وجہ سے آئی ہے۔ اے حبیب! تم فرما دو: سب اللہ کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوا کہ کسی بات کو سمجھنے کے قریب ہی نہیں آتے۔
{ اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدْرِکۡکُّمُ الْمَوْتُ:تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں ضرور پکڑ لے گی۔} لوگوں سے فرمایا گیا کہ اے جہاد سے ڈرنے والو! تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں ضرور پکڑ لے گی اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہواور اس سے رہائی پانے کی کوئی صورت نہیں اور جب موت ناگزیر ہے تو بسترپر مرجانے سے راہ ِخدا میں جان دینا بہتر ہے کہ یہ سعادت آخرت کی کامیابی کا سبب ہے۔