طاقت ہونا بھی ہے۔ جہاد یہ نہیں ہے کہ طاقت ہو نہیں اور چند مسلمانوں کو لڑائی میں جھونک کر مروا دیا جائے۔ جہاد کبھی فرضِ عین ہوتا ہے اور کبھی فرضِ کِفایہ۔
(2)…آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دینے کیلئے مسلمانوں کی مَظلومِیَّت کا بیان کرنا بہت مفید ہے۔ آیت میں جن کمزوروں کا تذکرہ ہے اس سے مراد مکہ مکرمہ کے مسلمان ہیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی گئی تاکہ وہ ان کمزور مسلمانوں کو کفار کے پنجۂ ظلم سے چھڑائیں جنہیں مکہ مکرمہ میں مشرکین نے قید کرلیا تھا اور طرح طرح کی ایذائیں دے رہے تھے اور اُن کی عورتوں اور بچوں تک پربے رحمانہ مظالم کرتے تھے اور وہ لوگ اُن کے ہاتھوں میں مجبور تھے اس حالت میں وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی خلاصی اور مددِ الٰہی کی دعا ئیں کرتے تھے ۔ یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو اُن کا ولی و ناصر کیا اور انہیں مشرکین کے ہاتھوں سے چھڑایا اور مکۂ مکرمہ فتح کرکے اُن کی زبردست مدد فرمائی۔
(3)…آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیرُاللہ کو ولی اور ناصر (یعنی مددگار) کہہ سکتے ہیں۔
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقٰتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۚ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُقٰتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ الطّٰغُوۡتِ فَقٰتِلُوۡۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیۡطٰنِ ۚ اِنَّ کَیۡدَ الشَّیۡطٰنِ کَانَ ضَعِیۡفًا ﴿٪۷۶﴾ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ قِیۡلَ لَہُمْ کُفُّوۡۤا اَیۡدِیَکُمْ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ ۚ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللہِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَۃً ۚ وَقَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیۡنَا الْقِتَالَ ۚ لَوْلَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ؕ قُلْ مَتٰعُ الدُّنْیَا قَلِیۡلٌ ۚ وَالۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰی ۟ وَلَا تُظْلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۷۷﴾