Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
248 - 476
فرمایا ’’خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے، خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے، خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے۔
(مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الرمی والحث علیہ۔۔۔ الخ، ص۱۰۶۱، الحدیث: ۱۶۷(۱۹۱۷))
(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مشرکین سے ،اپنے مال، ہاتھ اور زبان سے جہاد کرو ( یعنی دینِ حق کی اشاعت میں ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہو جاؤ) 
(نسائی، کتاب الجہاد، باب وجوب الجہاد، ص۵۰۳، الحدیث: ۳۰۹۳) 
(3)…حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرورِ کائنات، شاہِ موجوداتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کے بدلے تین افراد کو جنت میں داخل فرمائے گا (1) ثواب کی نیت سے تیر بنانے والے کو (2) تیر پھینکنے والے کو (3) تیر پکڑوانے والے کو۔ اور تیر اندازی اور گھڑ سواری میں مقابلہ کیا کرو، تمہارا تیر اندازی میں مقابلہ کرنا شَہسواری میں مقابلہ کرنے سے زیادہ مجھے پسند ہے اور جو تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے غفلت کرتے ہوئے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت کو گنوا دیا۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی الرمی، ۳/۱۹، الحدیث: ۲۵۱۳) 
(4)… حضرت عمر بن خطاب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اہلِ شام کو خط لکھا کہ اپنی اولاد کو تیراکی اور گھڑ سواری سکھاؤ۔ 
(در منثور، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۰، ۴/۸۶)
وَ اِنَّ مِنۡکُمْ لَمَنۡ لَّیُبَطِّئَنَّ ۚ فَاِنْ اَصٰبَتْکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَکُنۡ مَّعَہُمْ شَہِیۡدًا ﴿۷۲﴾ وَلَئِنْ اَصٰبَکُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللہِ لَیَقُوۡلَنَّ کَاَنۡ لَّمْ تَکُنۡۢ بَیۡنَکُمْ وَبَیۡنَہٗ مَوَدَّۃٌ یّٰلَیۡتَنِیۡ کُنۡتُ مَعَہُمْ فَاَفُوۡزَ فَوْزًا عَظِیۡمًا ﴿۷۳﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور تم میں کوئی وہ ہے کہ ضرور دیر لگائے گا پھر اگر تم پر کوئی افتاد پڑے تو کہے خدا کا مجھ پر احسان تھا کہ میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا۔ اور اگر تمہیں اللہ کا فضل ملے تو ضرو ر کہے گویا تم میں اس میں کوئی دوستی نہ تھی اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ضرور دیر لگائیں گے پھر اگر تم پر کوئی مصیبت آ پڑے تو دیر لگانے