Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
246 - 476
 ان کا مقصد دوسروں کو دکھانا نہیں ہوتا لیکن ان کا دل نماز سے غافل ہوتا ہے اور جو شخص اسے دیکھتا ہے وہ اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑ ادیکھتا ہے جبکہ باطنی طورپر وہ خواہشات میں سے کسی خواہش کے سامنے بازار میں کھڑ اہوتا ہے ،اس طرح یہ اعمال زبانِ حال سے باطن کی خبر دیتے ہیں اور وہ اس میں جھوٹا ہوتا ہے اور اس سے اعمال میں صدق کی باز پُرس ہو گی۔ اسی طرح کوئی شخص سکون و وقار سے چل رہا ہوتا ہے حالانکہ ا س کا باطن سکون وو قار سے موصوف نہیں ہوتا تو یہ بھی اپنے عمل میں سچا نہیں اگرچہ ا س کی توجہ مخلوق کی طرف نہ ہو اور نہ ہی وہ ان کو دکھا رہا ہو ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر ظاہر کاباطن کے خلاف ہونا قصد وارادے سے ہو تو وہ ریا ہے اور ا س سے اخلاص ختم ہو جاتا ہے اور قصدو ارادے کے بغیر ہو تو اس سے صدق فوت ہو جاتا ہے اور اس قسم کی خرابی سے نجات کی صورت یہی ہے کہ ظاہر وباطن ایک جیسا ہو بلکہ باطن ظاہر سے بہتر ہو۔
	چھٹا اور سب سے اعلیٰ و مُعَزَّز درجے کا صدق’’ مقامات دین میں صدق‘‘ ہے، جیسے خوف ، امید، تعظیم، زُہد، رضا، تَوَکُّل، محبت اور باقی اُمورِ دینیہ میں صدق پایا جانا ۔ان امور کی کچھ بنیادیں ہیں جن کے ظاہر ہونے سے یہ نام بولے جاتے ہیں ،پھر ان کے کچھ مقاصد اور حقائق ہیں تو حقیقی صادق وہ ہے جو ان امور کی حقیقت کو پا لے اور جب کوئی چیز غالب آ جائے اور اس کی حقیقت کامل ہو تو ا س سے موصوف شخص کو صادق کہا جاتا ہے۔
(احیاء العلوم، کتاب النیۃ والاخلاص والصدق، الباب الثالث، بیان حقیقۃ الصدق ومعناہ ومراتبہ، ۵/۱۱۷-۱۲۲)
	یاد رہے کہ اس آیت میں صدیقین سے سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے اَکابِر صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسب سے پہلے مراد ہیں جیسے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ شہداء سے مراد وہ حضرات ہیں جنہوں نے راہِ خدا میں جانیں دیں اور صالحین سے مراد وہ دیندار لوگ ہیں جو حق العِباد اور حقُّ اللہ دونوں ادا کریں اور اُن کے احوال و اعمال اور ظاہر و باطن اچھے اور پاک ہوں۔
ذٰلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللہِ ؕ وَکَفٰی بِاللہِ عَلِیۡمًا ﴿٪۷۰﴾ 
ترجمۂکنزالایمان:	یہ اللہ  کا فضل ہے اور اللہ کافی ہے جاننے والا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: 	یہ اللہ  کا فضل ہے، اور اللہ جاننے والاکافی ہے۔