Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
240 - 476
رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا وہ کافر ہے، ایمان کا مدار ہی اللہ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے حکم کو تسلیم کرنے پر ہے۔
آیت’’ فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
	اس آیت ِ مبارکہ سے 7 مسائل معلوم ہوئے۔
(1)…اللہ  عَزَّوَجَلَّنے اپنے رب ہونے کی نسبت اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی طرف فرمائی اور فرمایا اے حبیب! تیرے رب کی قسم۔ یہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی عظیم شان ہے کہ اللہ  تعالیٰ اپنی پہچان اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ذریعے سے کرواتا ہے۔ 
(2)…حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا حکم ماننا فرض قرار دیا اور اس بات کو اپنے رب ہونے کی قسم کے ساتھ پختہ کیا۔
(3)…حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا حکم ماننے سے انکار کرنے والے کو کافر قرار دیا۔
(4)…تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ حاکم ہیں۔ 
(5)…اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی حاکم ہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ بھی البتہ دونوں میں لامُتَناہی فرق ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بہت سی صفات جواللہ  تعالیٰ کیلئے استعمال ہوتی ہیں اگر وہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے لئے استعمال کی جائیں تو شرک لازم نہیں آتا جب تک کہ شرک کی حقیقت نہ پائی جائے۔ 
(6)…رسو لِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا حکم دل و جان سے ماننا ضروری ہے اور اس کے بارے میں دل میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے ۔ اسی لئے آیت کے آخر میں فرمایا کہ پھر اپنے دلوں میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے حکم کے متعلق کوئی رکاوٹ نہ پائیں اور دل و جان سے تسلیم کرلیں۔
(7)…اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلامی احکام کا ماننا فرض ہے اور ان کو نہ ماننا کفر ہے نیز ان پر اعتراض کرنا، ان کا مذاق اڑانا کفر ہے۔ اس سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو کافروں کے قوانین کو اسلامی قوانین پرفَوْقِیَّت  دیتے ہیں۔ 
وَلَوْ اَنَّا کَتَبْنَا عَلَیۡہِمْ اَنِ اقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ اَوِ اخْرُجُوۡا مِنۡ دِیٰرِکُمۡ مَّا فَعَلُوۡہُ اِلَّا قَلِیۡلٌ مِّنْہُمْ ؕ وَلَوْ اَنَّہُمْ فَعَلُوۡا مَا یُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ لَکَانَ خَیۡرًا