نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ہاں ، میں کسی اینٹ پتھر کے پاس نہیں آیا ہوں ، میں تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے حضور حاضر ہوا ہوں ،۔ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : دین پر نہ روؤ جب اس کا اہل اس پر والی ہو، ہاں اس وقت دین پر روؤ جبکہ نا اہل والی ہو۔ یہ صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔ (مسند امام احمد، حدیث ابی ایوب الانصاری، ۹/۱۴۸، الحدیث: ۲۳۶۴۶)
(5)… حضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی وفات شریف کے بعد ایک اعرابی روضۂ اقدس پر حاضر ہوا اور روضۂ انور کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا:یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، جو آپ نے فرمایا، ہم نے سنا اور جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر نازل ہوا ،اس میں یہ آیت بھی ہے’’وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا‘‘ میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہنے حاضر ہوا ہوں تو میرے رب عَزَّوَجَلَّسے میرے گناہ کی بخشش کرائیے ۔اس پر قبر شریف سے ندا آئی کہ تجھے بخش دیا گیا۔ (مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۲۳۶)
الغرض یہ آیت ِ مبارکہ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی عظیم مدح و ثنا پر مشتمل ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بہت سے اشعار فرمائے ہیں۔ چنانچہ’’ حدائق بخشش‘‘ میں فرماتے ہیں :
مجرم بلائے آئے ہیں جَآءُوۡکَ ہے گواہ پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے
اور فرمایا:
بخدا خدا کا یہی ہے در نہیں اور کوئی مَفَر مَقَر جو وہاں سے ہو یہیں آ کے ہو جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں
اور فرمایا:
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا ہمیں بھیک مانگنے کو تیرا آستاں بتایا
آیت’’ وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ ‘‘سے معلوم ہونے والے احکام:
اس آیت سے 4باتیں معلوم ہوئیں۔
(1)… اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاجت پیش کرنے کے لئے اُس کے مقبولوں کو وسیلہ بنانا کامیابی کا ذریعہ ہے۔
(2)…قبرِ انور پر حاجت کے لئے حاضر ہونا بھی ’’ جَآئُ وْکَ‘‘ میں داخل اور خَیرُ القُرون کا معمول ہے۔